عوام کی آواز
اب نہیں تو پھر کب؟ ای میل
جمعرات, 03 دسمبر 2009 21:14
 جب کوئی خاندان نئی خوشگوار زندگی گزارنے کی خواہش کے لئے کسی نئے ملک کی امیگریشن حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا ہے اور اسکے پا س سفر کا آغاز کرنے، گھر کرائے پر لینے ،کھانے ،پینے کی اشیاءخریدنے اور بچوں کو سکول بھجوانے کے لئے زیادہ پیسے نہیں ہوتے یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب دادی ماں نے جو خاندانی زیورات چھوڑے ہوتے ہیں انکو فروخت کیا جائے تاکہ خرچے کا بندوبست ہوسکے۔پنجاب حکومت یہی کام کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔وہ چاہتی ہے کہ شہر کی تاریخی لحاظ سے اہمیت کے حامل اور خوبصورت جائیدادیں فروخت کی جائیں ۔ہم نہیں سمجھتے کہ گورنر ہاﺅس اور بعض دیگر سرکاری رہائش گاہیں اتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہیں تاہم اصل تاریخی ورثہ بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ ہیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔
 
بیس سال والامیرے لئے کیوں نہیں ٹی وی اشتہار میں سولہ سترہ سالہ دوشیزاوں کا اضطراب ای میل
منگل, 10 نومبر 2009 13:53
مکرمی !آجکل اکثرٹی وی چینلوںپرایک لوشن بنانے والی ایک کمپنی کااشتہار چل رہا ہے جوملاحظہ فرما کر اندازاکریں کہ یہ اور اس قسم کے ایسے اشتہارات نوجوان نسل کوکس سمت لیجارہے ہیں۔
٭ٹی وی کمرشل اشتہار میں تین جواں سالہ لڑکیاں کھلکھلاتی ہوئی آتیں ہیں۔ ایک لڑکی کا ڈائلاگ ہے: ہائے عائشہ....کون لایاہے یہ کھلی کھلی رعنائی....؟ جواب میں دوسری دوشیزہ مکالمہ میں کہتی ہے کہ: وہی....کون؟۔جس پربیس سالوں سے اعتماد ہے۔ کیئر حنی لوشن،،ہاہاہاہی ہی....تیسری دوشیزہ انتہائی مضطرب لہجہ ہیں پوچھتی ہے کہ: 20 سال والا میرے لئے کیوں نہیں....
٭پھر اس اشتہار کا کچھ حصہ باربار ریلیز کیا جاتا ہے جس کا آغاز اُسی ڈائلاگ سے ہوتا ہے کہ: بیس سال والا میرے لئے کیوں نہیں....کیوں نہیں....16/17 سالہ دوشیزائیں انتہائی تجسس اور مضطرب انداز میں کہہ رہی ہیں کہ 20 سال والا میرے لئے کیوں نہیں؟ 20 سال والا میرے لئے کیوں نہیں؟؟
٭خدرا.... ادب وثقافت کے ذریعہ قوموں کو زوال میں مبتلا کرنے کی بجائے نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کرکے ان میں حُب الوطنی کا جذبہ اُجاگر کرنے کی کوشش کی جائے اور بیہودہ قسم کے کمرشل اشتہارات پر پابندی لگائی جائے ۔
افتخارالحسن رائیونڈی
ڈپٹی سیکرٹری پریس کلب رائے ونڈ

 
خادمِ پنجاب سے ”پیڈا“کے 251 خاندانوں کی اپیل ای میل
جمعرات, 29 اکتوبر 2009 23:45
مکرمی!1997ء میں خادمِ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب نے صوبہ کے کسان کی بہتری اور محکمہ آبپاشی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے پنجاب اسمبلی سے ”پیڈا ایکٹ“ منظور کروایا اور پنجاب ایریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (پیڈا) کے نام سے کسان نئے نظام سے مستفید ہونے لگے۔ خادمِ پنجاب کا لگایا یہوا پودا (پیڈا) اب پھل دار درخت بن گیا ہے اور کسان تنظیمیں اپنی مدد آپ کے تحت نہری آبیانہ اکٹھا کر کے نہروں کا نظام سنبھالنے کے قابل ہو گئی ہیں۔ خادم پنجاب سے سوال ہے کہ پیڈا کے وہ 251 کے قریب ملازمین جنہوں نے دِن رات محنت کر کے آپ کے لگائے گئے پودے کو پھل دار درخت بنانے کے لئے دِن رات محنت کی ہے کیا وہ اِس انعام کے حقدار نہیں ہیں کہ اُنہیں بھی پنجاب کے دیگر ڈیڑہ لاکھ ملازمین کی طرح ریگولر کر دیا جائے۔ یہاں 251ملازمین کے ریگولر ہونے کا سوال نہیں بلکہ 251خاندانوں کے چولہے بجھنے کا خطرہ ہے۔ پیڈا اتھارٹی کے 251 ملازمین اور اُن کے خاندان خادمِ پنجاب سے اپیل کرتے ہیں کہ پیڈا کے تمام ملازمین کو بھی دوسرے محکموں کی طرح ریگولر کر دیا جائے۔
 
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے ای میل
ہفتہ, 01 اگست 2009 07:30
فوزیہ بشیر ایڈووکیٹ
مکرمی! سابقہ دور حکومت کے خود کو ناگزیر سمجھنے والے صدرپرویز مشرف نے برملا تسلیم کیا ہے کہ عدلیہ کے ساتھ متصادم رویہ میری غلطی تھی۔ میں نے کسی دانشور کا قول پڑھا تھا کہ بڑے آدمی کی چھوٹی غلطی بھی بہت بڑی ہوتی ہے۔ مشرف صاحب کی چھوٹی سی غلطی نے وطن عزیز میں غیر یقینی معاشی ابتر صورتحال کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس ضمن میں مہنگائی، لاقانونیت، بنیاد ی ضروریات زندگی سے متعلق بحرانوں نے بھی سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ ابھی تو ان تمام حکومتی ظلموں سے چور عوام اٹھ بھی پائی ہے کہ صدر جناب آصف علی زرداری نہ جانے کن مشیروں اور وزیروں کے مشورے سے دوبارہ عدلیہ کے ساتھ متصادم رویہ اپنا رہے ہیں۔ حالانکہ بطور پاکستانی صدر وہ وطن عزیز اس کے عوام اس کے اثاثے کے امین ہیں عوام کے مسائل کو حل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا ازالہ کرنے کے لئے انہوں نے یہ اہم ذمہ داری قبول کی ہے۔ افسوس صد افسوس یہ وہ وقت ہے جب وطن عزیز ہر طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے وطن کے دشمنوں کا حل کبھی قرض اور بھیک مانگ کر نہیں ہوتا اور نہ ہی نچڑی ہوئی عوام کا مزید کچومر نکال کر، نہ ہی اپنے ہی ملک کے اعلیٰ اداروں بالخصوص عدلیہ کے ساتھ مسلسل متصادم رویہ اختیار کر کے حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ جناب صدر آصف علی زرداری سے ایک دانشور اور خاص طبقے کو خاص توقعات تھیں کہ یہ عوامی صدر وطن عزیز کو مضبوطی اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ جبکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بالخصوص 8 جولائی اور 9 جولائی کا دو ملکی بڑے اداروں میں متصادم رویہ ملک وقوم کے لئے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے یہ سلسلہ صدر محترم نے عدالت کے تیل کی کمی کے فیصلے کا مذاق اڑا کر شروع کیا۔ 
وہ وقت بھی دیکھا ہے تقدیر کی گردش نے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
 
جوبلی ٹاون کے مکینوں کی خادم پنجاب سے امیدیں ای میل
ہفتہ, 25 جولائی 2009 20:32
تحریر:صائمہ انفاس۔لاہور
مکرمی! میاں شہباز شریف نے اپنے دور میں لاہور کے شہریوں کو سہولت بہم پہنچانے کیلئے گذشتہ دس سال قبل ایک ہاوسنگ سکیم جوبلی ٹاون کا اجرا کیا تھا۔ گزشتہ حکومت نے اپنے 5 سالہ دور میں اس سکیم کو آباد کرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اب جبکہ میاں شہباز شریف کا دور پھر واپس آ گیا ہے جوبلی ٹاون کے مکینوں کو امید پیدا ہو گئی ہے کہ اس سکیم کو آباد کرنے کیلئے ایل ڈی اے جلد ترقیاتی کام مکمل کرائے گا۔ مکینوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے پرزور اپیل کی ہے کہ اپنے ہاتھوں افتتاح کرنے والی اس سکیم کا ایک دورہ کر لیں تاکہ بقیہ کام جلدمکمل ہو سکے۔
 


 
بینر
بینر

لاہور موسم

Smoke
27C
ہفتہ