ملک بھر کے ائیر پورٹس پر زرد بخار کے حفاظتی ٹیکے ختم ای میل
ہفتہ, 31 جولائی 2010 18:22
ملک بھر کے ائیر پورٹوں پر زرد بخار کے حفاظتی ٹیکے ختم ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ملکوں میں پاکستانی شہریوں کا سفر ناممکن ہو گیا ہے اور سرکاری عملہ کئی گنا زائد نرخوں پر ٹیکے فروخت کرنے میں مصروف ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے افریقہ کے 34ملکوں اور جنوبی امریکہ کے 16ملکوں میں سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لئے زرد بخار کے حفاظتی ٹیکے لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ زرد بخار کے ٹیکے لگانے کے لئے وفاقی محکمہ صحت نے ملک بھر میں آٹھ مراکز قائم کئے ہیں ۔ یہ مراکزلاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور فیصل آباد ائیر پورٹوں کے علاوہ ہیلتھ انسٹیوٹ برڈ وڈ لاہور اور وفاقی مرکز صحت کراچی میں قائم ہیں۔ ان تمام مراکز صحت میں گزشتہ دو مہینوں سے زرد بخار کے حفاظتی ٹیکے دستیاب نہیں جس کی وجہ سے مسافروں کے لئے زرد بخار سے متاثرہ ملکوں کا سفر دشوار ہو جاتا ہے۔ پاکستانی مسافروں کی پریشانی سے فائدہ اٹھا کر ائیر پورٹوں پر تعنیات محکمہ صحت کا عملہ پرائیوٹ نرخوں پر حفاظتی ٹیکے فروخت کرنے میں مصروف ہے۔ زرد بخار کے حفاظتی ٹیکے کا سرکاری نرخ 500روپے ہے لیکن محکمہ صحت کا عملہ ایک ٹیکہ 2ہزار روپے میں فروخت کر تا ہے۔ انسداد اندھے پن کی تنظیم پروینشن آف بلائنڈنس ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر انتظار حسین بٹ جو افریقی ملکوں میں آنکھوں کے فری کیمپوں کے لئے متواتر سفر کرتے ہیں انھوں نے بتایا کہ ائیر پورٹوں پر محکمہ صحت کا عملہ زرد بخار کے حفاظتی ٹیکے لگانے کے بعد ایک سرٹیفکیٹ جاری کر تا ہے جو دس سال کے لئے کار آمد ہو تا ہے۔ وہ مسافر جن کے پاس زرد بخار کے حفاظتی ٹیکوں کا کارڈ نہیں ہوتا انھیں افریقہ کے سفر سے واپس پہنچنے پر کراچی ائیر پورٹ پر محکمہ صحت کا عملہ روک لیتا ہے اور انھیں چھ دنوں تک ایک الگ وارڈ میں تنہا رکھا جاتا ہے اور اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ مسافر کو زرد بخار کے جراثیم نہیں گھر جانے کی اجازت دی جا تی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک مر تبہ افر یقہ سے واپسی کے بعد کر اچی ائیر پورٹ پر ان کے ساتھی ڈاکٹر کو روک لیا گیا اور زرد بخار کی تصدیق کے لئے انھیںچھ دنوں تک الگ وارڈ میں رکھا گیا اس دوران ان کے کسی دوست اور رشتہ دار کو ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر وفاقی محکمہ صحت کی ڈسپنسری کی انچار ج ڈاکٹر روبینہ ناز نے موقف میں کہا کہ زرد بخار کے حفاظتی ٹیکے بجٹ کی کمی کی وجہ سے دستیاب نہیں ۔ جون میں سالانہ قومی بجٹ کے اعلان کے بعد ادویات کی خریداری کا بجٹ نہیں ملا لیکن امکان ہے کہ رواں مہینے زرد بخار کے حفاظتی ٹیکوں کا سٹاک پہنچ جائے گا۔ انھوں نے کہ سرکاری عملہ مسافروں کی سہولت کے لئے بازار سے حفاظتی ٹیکے خریدتا ہے اور بازار کی قیمت پر فروخت کر تا ہے۔ مسافر حفاظتی ٹیکے خود بھی بازار سے خرید سکتے ہیں۔
 
 
بینر
بینر

لاہور موسم

Smoke
28C
منگل