ڈسکاﺅنٹ ریٹ میں مزید اضافے کے فیصلے سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونگے ‘لاہور چیمبر ای میل
ہفتہ, 31 جولائی 2010 18:15
  لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ڈسکاﺅنٹ ریٹ میں مزید اعشاریہ پانچ فیصد اضافے پر انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس غیر منطقی فیصلے سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونگے جبکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت مزید بڑھ جائے گی جو پہلے ہی بہت سے مسائل کی وجہ سے مشکلات میں ہیں۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ظفر اقبال چودھری نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے افراط زر پر قابو پانے کا غلط طریقہ اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے معاشی نشوونما متاثر ہوگی جس میں بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہوگئے تھے۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ڈسکاﺅنٹ ریٹ بڑھانے سے مالی خسارے یا افراط زر پر قابو پانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی کیونکہ ماضی میں بھی ایسا قدم اٹھانے سے بہتری کی بجائے نقصان دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ ظفر اقبال چودھری نے کہا کہ اس وقت جب صنعت و تجارت کو خصوصی پیکیج کی ضرورت ہے شرح سود میں اضافہ کردیا گیا ہے جو تباہ کُن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں پیداواری لاگت پہلے ہی بہت زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں افراط زر کی شرح گیارہ فیصد جبکہ مالی خساہ بھی پاکستان سے زیادہ ہے لیکن وہاں شرح سود 5.75فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ہمیشہ سے مطالبہ کرتی آرہی ہے کہ ڈسکاﺅنٹ ریٹ میں کمی کی جائے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ ملے لیکن اِس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا ڈسکاﺅنٹ ریٹ ساڑھے بارہ فیصد سے بڑھاکر تیرہ فیصد کردینا تاجر برادری کی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو سستے قرضوں کی ضرورت ہے تاکہ ایک طرف تو یہ اپنے کاروباروں کو ترقی دے سکیں اور دوسری طرف معاشی نشوونما میں بھی اپنا کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو افراط زر پر قابو پانے کے لیے بینکنگ سپریڈ 7.8فیصد سے کم کرکے 3.5فیصد کرنی چاہیے تھی لیکن اس کے بجائے اُس نے ڈسکاﺅنٹ ریٹ میں پچاس بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں اضافے اور اخراجات میں کمی کا مطالبہ کرتا آیا ہے لیکن اِسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیااور پالیسی میکرز ہمیشہ ایسے فیصلے کرتے رہے جن سے معیشت کو نقصان ہو۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیرِخزانہ شوکت ترین نے وعدہ کیا تھا کہ ڈسکاﺅنٹ ریٹ کی شرح کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لائی جائے گی لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی پر زور دیا کہ وہ معاملے کا جائزہ لیں کیونکہ ڈسکاﺅنٹ ریٹ میں اضافے کی وجہ سے صنعتیں بندش کا شکار ہوجائیں گی۔
 
 
بینر
بینر

لاہور موسم

Smoke
28C
منگل