|
ادا۔رے ( پارٹ ون) کے ایم خالد |
|
|
|
شہریوں کی حفاظت ،صحت اوران کی بنیادی اوردیگر ضررویات کے لئے حکومت نے ادارے تشکیل دیے ہیں۔اگر کوئی ادارہ ہمارے قلم کی ذد سے محفوظ رہے تو ہم ان سے پیشگی ”معذرت خواہ “ہیں۔ پولیس دور قدیم میں حکومت کو شہریوں کی حفاظت کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔مگر جب سے پولیس کا محکمہ ایجاد ہوا ہے۔حکومت کو شہریوں کی جانب سے سکون ہے ،اب پولیس جانے اور شہری جانیں۔پولیس کا سلوگن ہے”پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی“اور یہ مدد عموماًنیوٹن کے تیسرے قانون حرکت”عمل اور ردعمل آپس میں برابر مگر مخالف سمت میں ہوتے ہیں“کے مصداق ہوتی ہے۔مدد کے لفظ سے مراد” امداد باہمی “ہے۔اگر آپ نے نیوٹن کے قانون کے تحت ان کے کہنے پر” عمل “کرلیا تو پھر ان کا ” ردعمل“آپ کے مخالفین کے لئے کافی ”اوکھا“ ثابت ہو گااگر ”عمل “سے قبل ہی مخالفین کی جانب سے ”ردعمل “ہو گیا تو بے چارہ نیوٹن کہاں ہماری پولیس کا رونا روئے گا۔ ہماری پولیس کی دہشت اور دبکے سے ہر کوئی واقف ہے ہمارے ملک میں پولیس اور تھانے دہشت کی علامت یہی وجہ ہے کی فلموں میں پولیس کو ہیرو کی جانب سے مار پڑنے پر ہم کتھارسس محسوس کرتے ہیں۔ کسی ملک کے جنگل میں ایک آدم خورشیر نے دہشت پھیلا رکھی تھی۔پاکستانی پولیس کو ایک ٹارگٹ کے تحت بلایا گیااور ایک ہی رات میں ہو آدم خور شیر پکڑا گیا۔ہوا کچھ یوں ِکہ شیر کی گرفتاری کے لئے پولیس پارٹی جنگل میں گئی انہوں نے آو دیکھا نہ تاﺅ ایک ہاتھی کو پکڑا اور اس پر تشدد شروع کر دیا ۔ہاتھی نے چنگاڑنا شروع کر دیا وہ بے چارہ گنے چوس رہا تھا ”بھائی !میرا قصور کیا ہے ؟“ ”تم بندے کھاتے ہو۔“ ”حضورمیں ہاتھی ہوںایک بے ضرر سبزی خور جانور یہ دیکھو میں تو گنے کھا رہا ہوں“ہاتھی نے گنے ان کو دکھاتے ہوئے کہا۔ نہیں،تم شیر ہو اس بات کو تسلیم کرو“۔ جناب میں ہاتھی ہوں۔ہے الف ہا۔تھیے تھی ۔ہاتھی بچوں کی سائنس اور معاشرتی علام کی کتابوں میں میرا تعارف ہے“ ہاتھی نے روتے ہوئے کہا ”نہیں،تم تسلیم کرو تم شیر ہو ۔“ ”میں جناب ہاتھی ہوں۔“ہاتھی کی چنی سی آنکھوں سے زاروقطار آنسو گر رہے تھے۔ ”اس پر تھرڈ ڈگری اٹیک کرو“۔افسر غرایا یہ ساری کاوائی جھاڑیوں میں شکار کی غرض سے گھات لگائے شیر بخوبی دیکھ اور سن رہا تھا ۔اسے ان کالی وردی والوں سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔اور پھر تھوڑی ہی دیر میں ہاتھی چلا چلا کر کہ رہا تھا ۔”ہاں میں شیر ہوں ،میں نے چالیس بندے کھائے ہیں“۔ہاتھی کو جب گرفتار کرکے جنگل سے باہر لایا گیا تو تب بھی اس کی زبان پر یہی الفاظ تھے۔وہاں پرموجود لوگوں نے یہ دیکھ کر کہا ”یہ ہاتھی ہے جناب شیر نہیں ۔“مگر پولیس نہ مانی ۔اس واقعے کے ٹھیک آدھ گھنٹے بعد آدم خور شیر نے جنگل سے باہر آ کر گرفتاری دے دی۔وہ اپنی شناخت کے لئے ان بندوں کی ہڈیاں بھی لایا تھا جن کو اس نے کھایا تھا۔ ٭٭٭ میونسپل کاپوریشن میونسپل کاپوریشن شہر سے گندگی اٹھانے کی ذمہ دار ہے اور اس کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ سوائے چند پوش علاقوں کے گندگی کے ڈھیر آپ کا منہ چڑا رہے ہیں۔جیسے کہ رہے ہوں کر لو جو کرنا ہے۔یہ الگ بحث ہے یہ منافع کن کو بخشتا ہے ۔یورپی ممالک میں کوڑے سے بہت سے کام لئے جا رہے ہیں،بجلی بنائی جا رہی ہے ،کھاد بنائی جارہی ہے۔مگر ہمارے ہاں کوڑے سے صرف دشمن کو زچ کیا جاتا ہے ۔وہ اس طرح کہ اگر آپ نے خاکروب کی خدمت کر دی تو ٹھیک اور اگر وہ اپنی اس خدمت سے مطمئن نہ ہوا تو پھر آپ کا اپنا گند آپ کا جینا دو بھر کر دے گا۔اور آپ اس کی منتوں پر اتر آئیں گے۔ ایک وقت تھا جب مچھر اتنا طاقتور نہیں تھا ۔آپ اسے چٹکی سے مسل بھی سکتے تھے۔آج کے دور میں مچھر طاقتور ہو گیا ہے شائد کاپوریشن کی ڈی ٹی ڈی اس کے لئے وٹامن ثابت ہو رہی ہے۔بے غیرت کے منہ میں دانت بھی انسان سے سے ذیادہ ہیں۔آپ مچھر سے بچاﺅ کے لئے میٹ لگائیں ،جلیبی دکھائیں،فنس چھڑکائیںیا جسم پر جل لگائیں ۔ان سب اقدامات کے باوجود یہ آپ کے کان میں الاپ گروپ کی طرح چیخ کر کہے گا ”بس“۔اور آپ یقیناً آپ اس کی اس بات پر جل بن جائیں گے۔جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے دولہا راجہ آپ کے کان میں باجا بجائیں گے اور دلہن رانی آپ کو کاٹے گی کیونکہ اپنی نسل کی بڑھوتری کے لئے اس کو آپ کے خون کی اشد ضرورت ہے۔ پچھلے دور کا مچھرابن آدم کو صرف ملیریا میں مبتلا کرتاتھا۔چند دن ہانپ کانپ کر بندہ تند رست ہو جاتا تھااب انہوں نے اپنی ایک نئی نسل ایجاد کر لی ہے جس کو ڈینگی مچھر کا نام دیا گیا ہے۔صاف پانی پر پلنے والا یہ مچھر انسانی بقا کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔پہلے گندے پانی کو جلد ازجلد ٹھکانے لگانے کا سوچا جاتا تھا اب صاف پانی بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا غلیظ پانی۔کاپوریشن کے ملیریا سپروائزر صرف تنخواہیں وصول کر نے میں مصروف ہیںنہ تو ان میں پہلے جیسا مچھر سے مقابلے کا رحجان ہے اور نہ وہ لنگوٹ کس کر اس کے مقابلے پر آتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں نصیرالدین شاہ کا کہنا ہے ”سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے۔یا پھر وہ نمرود کے حال سے واقف ہیں جس نے اپنی قوم سے اس سر پر جس پر اس کو بہت تھا خود چھتر لگوائے تھے۔ ٭٭٭
واسا پانی کی فراہمی اور اور نکاسی کے لئے ہر شہر میں واسا کا ادارہ کام کر رہا ہے جو واسا کم اور” دلاسا“ ذیادہ محسوس ہوتا ہے۔نہ جانے اسے اکٹھی دو ڈیوٹیاں کیوں سونپی گئی ہیں پانی اور سیوریج۔ان دونوں ڈیوٹیوں کو انہوں نے اس طرح یکجا کر دیا ہے کہ حیرانی ہوتی ہے ایک ہی لائن سے دونوں کام کئے جارہے ہیں۔اس ”ٹوان ون“ کام سے واسا کی آمدنی میں اضافہ ہو نہ ہو شرح اموات میں ضرور اضافہ ہو ا ہے اور یوں ملک الموت نے اپنے حصے کا کام بھی ان کو تفویض کر دیا ہے۔ واسا کی اس ”کارکردگی“کے باعث ہیپاٹائٹس کا مرض وطن عزیز کے طول وعرض میں پھیل چکا ہے ہمارے ایک دوست کو یرقان کی معمولی سی شکایت ہوئی وہ ٹسٹ کروانے ہسپتال پہنچے ۔ڈاکٹر صاحب نے ان سے پوچھا ”کیا تکلیف ہے۔“ “معمولی سا یرقان ہے “ پانی کونسا استعما ل کرتے ہیں۔“ ”جی میں معمولی شہری ہوں ،منرل واٹر نہیں پیتا۔“ جی نہیں ،میرے کہنے کا مقصد ہے زمینی یا سرکاری۔“ ”سرکاری پانی پر موٹر لگا رکھی ہے وہی استعمال کر تے ہیں۔“ ”تو پھر ٹسٹ کروانے کی کیا ضرورت ہے آپ کو کالا یرقان ہے اللہ کا نام لے کر دوائی شروع کریں۔ ہم نے یہاں قارئین کی گونا گوں مصروفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے خود ہی واسا کی کارکردگی کے بارے ایم ڈی واسا سے ایک خیالی انٹرویو کیا ،خیال رہے کہ یہ انٹرویو خیالی ہے اوریجنل شائد اس بھی ذیادہ مذیدار ہو۔ آئیں جناب! تشریف رکھیں۔“ایم ڈی واسا نے کرسی سے اٹھ کر میرا استقبال کیا ”آپ کوئی صحافی ہیں“۔ایم ڈی صاحب بغل میں دبی فائل اور ہاتھ میں پکڑی بوتل کو دیکھ کر کہا۔ ”نہیںجناب! میں ایک معمولی شہری ہوں “ اس پر ایم ڈی صاحب نے ناک بھوں چڑھایا”میں سمجھا کوئی صحافی ہو ،بہرحال بتاﺅ کیوں آئے ہو۔“ ”جناب!آپ کے پانی کی شکایت لے کر حاضر ہوا ہوں۔“میں نے ان کے سامنے پانی کی شفاف بوتل رکھتے ہوئے کہا ”پانی تو بہت صاف ہے ،کون سے علاقے سے آئے ہو۔“ ”مصری شاہ سے۔“ مصری شاہ میں اتنا شفاف پانی ،اتنا صاف پانی تو ہم گلبرگ میں بھی سپلائی نہیں کرتے۔اس سے آپ کو یقین ہو جانا چاہیے کہ حکومت امیر اور غریب کے فرق کو مٹا دینا چاہتی ہے۔“انہوں نے چہکتے ہوئے کہا ”یہ اس صاف پانی کی رپورٹ ہے۔“میں نے فائل ان کے سامنے کر دی۔ انہوں نے فائل کو کھول کر رپورٹ پڑھی اور مسکرا دیے”اس میں کوئی خاص بات ۔“انہوں نے رپورٹ کو لہراتے ہوئے کہا۔ ”جناب!اس میں سیسہ دریافت ہو ا ہے ۔“ اگر سیسہ انسانی صحت کے لئے خطرناک ہے تو یہ کیوں کہتے ہو سیسہ پلائی دیوار بن جاﺅ۔“ جناب عالی ! اس میں لوہا بھی ہے“میں نے چڑتے ہوئے کہا بھئی حکیموں کے آگے پیچھے پھرتے ہو ہمارے جسم کو فولادی بنا دو،لوہے ہی کو فولاد اور انگلش میں آئرن کہتے ہیںجتنے بھی بچوں کے دودھ اور بڑوں کے سپلیمنٹ ہیں ان سب میں آئرن شامل ہے اور اگر یہ ہمارے پا نی میں ہے تو یہ اس کی اضافی خوبی ہے۔“ ”جناب !اس میں0.001 فی صد پارہ بھی ہے۔“ ”یہ کہ کر میرا پارہ نہ چڑھاﺅ،پارے کا انسانی جسم میں بہت بڑا کردار ہے یوں سمجھوں کم عقل،کہ بلڈ پریشر کا بڑھنا ،پارہ کا بڑھنا ہے ۔اور بلڈ پریشر کا لو رہنا ،پارے کی جسم میں کمی کی علامت ہے،کیونکہ تم نے وہ مشہور فقرہ پڑھا ہو گا خون پارے کی طرح میرے جسم میں دوڑنے لگا۔اور کچھ“ انہوں نے مجھے چڑایا ”میںنے یہ بوتل ڈائریکٹ ٹونٹی سے اس کا منہ لگا کر بھری ہے اسے ذرا سونگھیں لیبارٹری رپورٹ کے مطابق اس میں ہایڈروجن سمیت چند دوسری گیسیں بھی خارج ہوئی ہیں۔“ واسا نے تم سے کب کہا ہے پانی ڈائریکٹ پیو،ٹینکی سے لے کر تمہارے گھر تک نہ جانے ہمارے پائپ کن کن گٹروں اور کون کونسی جگہوں سے گزرتے ہیں،پائپوں میں جب پانی نہیں ہوتا تو نہ جانے اس میں کون کونسی گیسیں بسیرا کر لیتی ہیں۔پانی کو تحمل سے پیو گیسیں خود ہی خارج ہو جائیں گی۔یہ بتاﺅ سائنس پڑھے ہو۔“ ”جی ہاں،میٹرک سائنس کے ساتھ ہوں۔“میں نے زچ ہو کر کہا ”پانی کا فامولا بتاﺅ۔“ ”H2O “ ایک حصہ آکسیجن اور دو حصے ہائڈروجن۔“ ”آپ نے اکثر پائپوں سے سڑسڑ کی آوازسنی ہوں گی،وہ ہماری طرف سے دو حصے ہائڈروجن کی سپلائی ہوتی ہے جو فضا میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل قطرہ قطرہ پانی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔اگر واسا آپ کو دو حصے ہائڈروجن سپلائی کر تا ہے تو کیا اپنی جانب سے ایک حصہ آکسیجن شامل نہیں کر سکتے۔ہائڈروجن کے ساتھ ساتھ ہم آپ کو فولاد ،پارہ اور سیسہ مفت میں دے رہے ہیں۔“ایم ڈی واسا نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایااور میں نے اپنی رپورٹ بغل میں دابی ،پانی کی بوتل کو مضبوطی سے پکڑا اور باہر نکل آیا۔ ٭٭٭
|