لوٹا کریسی،ایک اُبھرتی ہوئی انڈسٹری (نوشاد احمد) ای میل
بدھ, 23 جون 2010 22:20
ہلاکو خان کو جس شخص نے بغداد شہر کے دروازے کی چابیاں دی تھیں ہلاکو خان نے یہ کہتے ہوئے اس کا سر قلم کر دیا تھا کہ تو اپنی قوم کا وفادار ثابت نہیں ہوا تو میرا کیا ہوگا۔
قائد اعظم کے تاریخی الفاظ کہ میری جیب میں کچھ کھوٹے سکے ہیں۔ شاید لوٹوں کے لئے ہی کہے گئے تھے۔
پاکستانی سیاست میں لوٹاازم کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود پاکستان کا وجود اگر دیکھا جائے تو درحقیقت کچھ انسانوں کی فطرت ہی ایسی ہوتی ہے۔جن کو اپنے ذاتی مفادات ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہوتے ہیں حتی کہ وہ لوگ قومی مفادات پر بھی اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ لوٹا ازم ایک عمل نہیں دراصل ایک سوچ کا نام ہے۔
ایک معزز صحافی نے کسی شخص کو ایک سیاسی جماعت کی طرف سے دی گئی دعوت میں دیکھا پھر دوسری سیاسی جماعت کی دعوت میں دیکھا اس کے بعد اس شخص کو پھر ایک اور جماعت کی دعوت میں دیکھا تو سوال کیا بھائی آخر تم کس جماعت سے تعلق رکھتے ہو۔ تو اس نے جواب دیا TEA PARTY سے ۔ جس کا سلیس ترجمہ مفاد پارٹی ہی کیا جاسکتا ہے۔
12اکتوبر 1999 کو جب میاں نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا دیا گیا تو لوٹا ازم کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کو ملا اور یہ مظاہرہ ہی پرویز مشرف حکو مت کو مستحکم کرنے کی بنیاد بنا۔ آمرانہ دور حکومت میں یہ لوٹا تحریک پھر سے اپنے عروج پر جا پہنچی اور بھیڑ بکریوں کی طرح لوٹے سیاستدانوں کی خرید و فروخت کا عمل شروع ہو گیا اور پھر پرویز مشرف کو اس کاروبار کو بام عروج تک پہنچانے کیلئے لوٹا کریسی میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے متعلقہ آئینی ترمیم کو معطل کرنا پڑا اس طرح پرویز مشرف کے دور حکومت میں لوٹاکریسی کو انڈسٹری کا درجہ حاصل ہوگیا۔ اور آج بھی اس انڈسٹری کی پراڈکٹس باآسانی دستیاب ہیں۔
قارئین سچ تو یہ ہے کہ سیاست میں جن کا سب سے زیادہ فعال کردار رہا ہے وہ اپنی پارٹی بدلنے والوں کا ہی ہے۔ سب سے زیادہ سیاسی تجربہ بھی انہیں کی دسترس میں ہوتا ہے کیونکہ کسی ایک سیاسی لیڈر کی سرگرمیاں تو محض اس کی جماعت تک ہی محدود ہوتی ہیں۔ لیکن لوٹوں کی سرگرمیاںکے تجربات تو کئی جماعتوں پر محیط ہوتے ہیں لیکن شاید قائد اعظم کے قول کام کام اور کام پر عمل کرتے ہوئے یہ لوگ ہر وقت سرگرم عمل رہتے ہیں۔اور حالات و واقعات کے مطابق اپنا پینترا بدلنا ان کو خوب آتا ہے ادھر اپنی حکومت کو گرتے دیکھا ادھر اگلی حکومتی جماعت میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تاکہ لوٹا ازم کا یہ جزبہ سرد نہ پڑ جائے۔ اسی سیاسی کھیل کو کھیلتے ہوئے یہ لوگ پھر سے ملک و قوم کی خدمت کرنے کے لئے آ دھمکتے ہیں لیکن ان کی دلیل بھی خوب ہے کہ ہم تو ایک ہی حکومتی پارٹی میں رہتے ہیں حکومت بدل جائے تو ہمارا کیا قصور ہے۔
اکثر اوقات تو نہ صرف عوام بلکہ یہ خود بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کا تعلق کس جماعت سے رہا ہے بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ لوٹے ہماری ملکی سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ میاں نوازشریف سے کسی نے جلاوطنی کے دوران مزاقا پوچھا کہ جب آپ پاکستان کے ائیر پورٹ پر تشریف لائیں گے تو لوٹے کس جگہ کھڑے ہوں گے؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے طنزا جواب دیا ٹرک کے اوپر۔ اس شخص نے دوبارہ پوچھا کہ آمر کے خلاف جدوجہد کرنے والے کارکن تو انہوں نے ہنستے ہوئے مزاقا جواب دیا ٹرک کے نیچے۔ خدا نہ کرے ہنسی مزاق کا یہ مکالمہ کہیں حقیقت کا روپ نہ دھار لے۔
اب ذرا اس بات پر بھی غور کر لیا جائے کہ لوٹوں کو وہ کون سا گر یا داو پیچ آتا ہے جس کی بناء پر یہ لوگ اتنی زیادہ اہمیت کے حامل ہوجاتے ہیں حتٰی کہ یہ اگر اپنی جماعت سے غداری کرنے کے بعد پھر سے اسی میں شامل ہونا چاہیں تو انھیں چشم ما روشن دل ما شاد کہہ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔
خوشامد کا جو ہنر انھیں آتا ہے وہ ہمارے ملک کے سبھی سیاسی قائدین کو رام کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ اپنی تعریف میں قصیدے سننا کس کو پسند نہیں؟۔ خوشامد اور تعریف میں یہ لوٹے زمین و آسمان کے ایسے قلابے ملادیتے ہیں کہ بیچارے لیڈر حضرات خود کو ہواوں میں اڑتا محسوس کرتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کا تعلق محض ہوا تک ہی ہوتا ہے زمین پر آنے کے بعد یہ خوشامدی ٹولا کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
یہ لوٹے سیاست دان ہمارے لیڈر حضرات کو خوشامد سننے کی ایسی بری لت ڈال دیتے ہیں کہ وہ انکے بغیر خود کو  ادھورا اور تنہا محسوس کرتے ہیں اس لئے ان کی جگہ ہر جماعت میں ہمیشہReserve رہتی ہے۔
جب کسی سیاسی لیڈر کو ان لوٹوں میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی تو انہیں اس لئے بھی نواز دیتے ہیں کہ شاید انکی پوشیدہ خوبیاں نظر نہ آرہی ہوں کیونکہ سابقہ حکمرانوں نے انکی اعلٰی خصوصیات دیکھ کر ہی تو انہیں اعلٰی منصب پر فائز کیا ہوگا۔
لوٹا ازم:
کا ایک تلخ اور تاریک پہلو یہ ہے کہ حکمرانوں کے لئے لوٹے سیاست دانوں کے مشورے، بے جا تعریف اور خوشامد پر ہی مبنی ہوتے ہیں جن کی بنیاد انھی کی ذاتی مفاد پرستی ہوتی ہے۔ حقیقت پسندانہ سوچ اور رویہ ہر گز نہیں ہوتا پھر یہ لوگ غیر جانبدارانہ اور مخلصانہ مشورہ کس طرح دے سکتے ہیں؟
موجودہ ملکی حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ یا تو یہ لوٹے صاحبان اپنی وفاداریاں ایک ہی جماعت تک محدود رکھیں اور ادھر ادھر لڑھکنا بند کر دیں یا پھر دوسری جماعتوں کے قائدین ان کی چالبازیوں کو سمجھتے ہوئے انکے خوشامدانہ مشوروں پر عمل کرنے کی بجائے ایسے فیصلے اوراقدام کریں جو ملکی استحکام اور سلامتی کیلئے ضروری ہیں۔
ایک حقیقت!
لوٹا کریسی کے تلخ اور عبرتناک مظاہرے یوں تو بہت سی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے دیکھے ہونگے لیکن پیارے پاکستان میں لوٹوں کی قلابازیاں کھانے کے عظیم الشان کرتب دیکھنے کا اعزار شاید میاں نواز شریف سے زیادہ کسی سیاسی لیڈرکو نصیب نہ ہوا ہواور اس لئے قوم کی نگاہیں آج میاں محمد نوازشریف پر لگی ہوئی ہیں۔ کیونکہ میاں محمد نوازشریف کی سابقہ حکومت نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے لوٹاازم کی تدفین کا عمل مکمل کر دیا تھا۔
 
 
بینر
بینر

لاہور موسم

Smoke
28C
منگل