|
سرکاری کالجز کی پرائیوٹیائزیشن .... چند تحفظات (محمد نورالھدیٰ ) |
|
|
پیر, 21 جون 2010 18:13 |
|
کیا پنجاب حکومت سرکاری کالجز کا کنٹرول سنبھالنے میں ناکام ہوچکی .... ؟ یہ وہ سوال ہے جو سوچوں کے دریچے چیرتا ہوا اس وقت ذہن میں داخل ہوا جب ایک معاصر اخبار میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ” سرکاری کالجز کی پرائیوٹیائزیشن کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے ، یہ کالجز نجی شعبہ کے حوالے کئے جارہے ہیں ۔ اس ضمن میں صوبے بھر کے 26 کالجز کو ٹھیکے پر لینے کے لئے معروف این جی اوز بھی میدان میں آگئیں ہیں جبکہ اساتذہ کو دو آپشنز دی جائیں گی یا تو وہ دوسرے کسی سرکاری کالج میں اپنی خدمات انجام دیں یا پھر ریٹائرمنٹ لے کر انہی کالجز میں پرائیوٹ طور پر تدریسی فرائض ادا کریں ۔ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے مطابق یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی ہدایات پر کیا گیا ہے “ (11 جون) ۔ دوسری طرف صوبائی وزیر بجٹ کا یہ بیان بھی آن دی ریکارڈ ہے کہ ” اداروں کی پرائیویٹائزیشن سے خسارا پورا کیا جائے گا“ (15 جون ) ۔ موجودہ صوبائی مشینری وقت کے ایک بہترین منصف کی سربراہی میں چل رہی ہے ۔ شہباز شریف ایک سمجھدار ، منجھے ہوئے اور دُوررس ایڈمنسٹریٹر ہیں ۔ وہ ملک کے ہر شعبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی خاطر دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ وہ شعبہ تعلیم کی حالت زار کی درستگی کے لئے بھی اپنی تمام تر صلاحیتیں صَرف کررہے ہیں ۔ اس شعبے کی بہتری کے لئے وہ بے حد فکرمند رہتے ہیں ۔ انہوں نے صوبے کی تعلیمی ترقی کے لئے بجٹ کا خاطرخواہ حصہ مختص کررکھا ہے اور عملی میدان میں بھی تعلیم کے دروازے عام طالبعلم کے لئے کھولنے کی غرض سے دانش سکول ، عام سرکاری سکولوں میں مفت تعلیم ، پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے پلیٹ فارم سے مستحق طلباءکے لئے سکالرشپ کے اجراءاور تعلیمی اداروں کو دورِ حاضر کی جدید ضروریات سے ہم آہنگ کرنے سمیت مختلف اقدامات کرکے اس شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور دوسرے صوبوں کے لئے بھی مثالیں قائم کی ہیں ۔ سفید پوش طلبہ و طالبات کی دسترس تک تعلیم پہنچانا شہباز شریف کا خاص ہدف اور اہم کارنامہ ہے ۔ ان حالات میں سرکاری کالجز کی پرائیویٹائزیشن کا فیصلہ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب کی مذکورہ تمام تر کوششوں کی نفی ہوگی وہیں صوبے کے سفید پوش طلبہ و طالبات کے لئے تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف بھی ہوگا ۔ شہباز شریف اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک کی موجودہ معاشی حالت زار کیا ہے ۔ مہنگائی کے ڈسے عوام پہلے ہی بہت مشکل سے اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کررہے ہیں ۔ یہ شعبہ نجی سیکٹر کے حوالے کردینے سے تعلیمی مسائل میں بے پناہ اضافہ ایک لازمی امر ہے ۔ نجی سیکٹر اور این جی اوز تو پہلے ہی تعلیم کے نام پر تجارت کررہی ہیں اور یہ عمل ان کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہوگا ۔ تعلیمی شعبہ نجی سیکٹر کے حوالے کرنے سے بلاشبہ تعلیمی اداروں کی مجموعی حالت زار بہتر ہوگی ، طلباءکی حاضری اور تعلیمی نتائج بہتر صورت میں سامنے آئیں گے ، استاد کی تنخواہوں میں اضافہ گا ، طالبعلم کو چیک اینڈ بیلنس کے مرحلے سے بھی گزرنا ہوگا ، معیارِ تعلیم بھی بلند ہونے کی وجوہات سے انکار ممکن نہیں ، لیکن جہاں اس کے بہت سے فوائد ہیں وہاں نقصانات اس سے بڑھ کر ہیں ۔ مثلاً تعلیم مہنگی ہوگی ، سفید پوش افراد جو پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں ، پر اس فیصلے کا براہِ راست اثر پڑے گا ، نصاب این جی اوز کی مرضی کا لاگو ہوگا جو یقینی طور پر مہنگی کتب پر مشتمل ہوگا ، فیسوں میں اضافہ ہونا بھی یقینی امر ہے ۔ اس عمل سے تعلیم ایک خاص طبقے تک محدود ہوکر رہ جائے گی ۔ پرائیویٹ سکول اور کالجز کے مقابلے میں سرکاری تعلیمی ادارے مسائل کی اس کڑی دھوپ میں درمیانے طبقے کے لئے ایک سائبان کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اگر حکومت ان اداروں کو پرائیوٹ کرتی ہے تو کیا وہ اس بات پر مجبور کرسکے گی کہ ان اداروں کی فیسیں عام آدمی کی رسائی میں ہونی چاہئیں ؟ کیونکہ ماضی میں جو ادارے خودمختار کئے گئے ہیں ان کی مثال ایف سی کالج اور جی سی یونیورسٹی کی صورت میں دی جاسکتی ہے جہاں ماضی کے مقابلے میں کئی سو گنا بڑھی ہوئی فیسوں کی بدولت اب یہ ادارے عام آدمی کے ادارے نہیں رہے ۔ حالانکہ انہی اداروں سے متوسط طبقے نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ملک کا نام روشن کیا ۔ مگر اب ان کی پرائیویٹائزیشن کے بعد فیسوں میں اضافے در اضافے کی بدولت یہ ادارے سفید پوش طلباءکی دسترس سے باہر ہیں ۔ دوسری جانب استادکا مستقبل سوالیہ نشان بن جائے گا ۔ یعنی اگر وہ ریٹائرمنٹ لے کر پرائیویٹ طور پر دوبارہ جوائن کرنے کی آپشن استعمال کرتے ہیں تو کیا گارنٹی ہے کہ اس کالج کی نئی انتظامیہ اسے دوبارہ رکھے گی ؟ اگر رکھ بھی لے تو ہر وقت ملازمت چلے جانے کا خوف رہے گا ۔ اس طرح سینکڑوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ بھی ہے جبکہ حکومت پنجاب بے روزگاری کے خاتمے کے لئے بھی مصروف عمل ہے ۔ ممکن ہے اس فیصلے پر عمل سے اساتذہ کی طرف سے حکومت پر مقدمہ بازی کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے ۔ کیونکہ اساتذہ کو بھرتی کرنے کے دوران معاہدے میں یہ بات شامل نہیں تھی کہ 60 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے انہیں مذکورہ طرز کی کوئی آپشن استعمال کرنے پر مجبور کیا جائے گا ۔ لہذا استاد اپنے حق کے لئے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتے ہیں جس سے حکومت کی سبکی بھی ہوگی اور اس کی تعلیم کے لئے کی جانے والی کوششیں کسی گنتی میں شمار نہیں ہونگی ۔ شہباز شریف غریب کے دکھوں کا مداوا کرنے والے محب وطن سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن نجانے یہ فیصلہ کرتے ہوئے انہوں نے مذکورہ حقائق کو کیسے فراموش کردیا ۔ سرکاری کالجز تو ایک مشنری جذبے کے تحت نسلوں کو تعلیم سے ہمکنار کرنے کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ، اگر انہیں بھی پرائیویٹائزیشن کی بھٹی میں جھونک دیا گیا تو شہباز شریف کی تعلیمی ترقی اور تعلیم یافتہ پنجاب کا خواب ادھورا رہ جائے گا ۔ صرف خسارہ پورا کرنے کے لئے طلباءاور اساتذہ کا مستقبل داﺅ پر لگانا ہرگز دانشمندی نہیں ۔ اگر حکومت کالجز کے انتظامی اور مالی امور ادا کرنے میں ناکام ہورہی ہے تو اس کا سیدھا سا حل یہ ہے کہ جس طرح پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ طلباءکو تین تین شفٹوں میں داخلہ دے کر کڑوروں کما رہی ہے ۔ کیا حکومت پنجاب لاکھوں کی تعداد میں موجود بے روزگار گریجوائٹس کو بھرتی کرکے سرکاری کالجوں کو پسماندگی سے نکالنے کے لئے شفٹیں نہیں شروع کرسکتی ؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور جو لوگ اسے گمراہ کررہے ہیں اور تعلیم کو تجارت بناکر شہباز شریف کا خواب چکناچور کرنا چاہتے ہیں ان کی سازشوں کو سمجھا جائے ۔ ہار مان کر تعلیمی ادارے نجی سیکٹر کے حوالے کرنے کی بجائے سینئر اساتذہ ، ماہرین تعلیم اور طلبہ رہنماﺅں کی مشاورت سے ان اداروں کی حالت زار اور سرکاری کالجز کو برقرار رکھتے ہوئے انہی میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کی عملی اور خالص جدوجہد کی جائے ۔ یہ مخلص کوششیں نجی سیکٹر سے زیادہ بہتر تعلیمی نتائج دیں گی اور نظامِ تعلیم بھی ممکنہ حد تک معیار برآمد کرے گا ۔ ضرورت تھوڑی سی توجہ اور کوشش کی ہے ۔ لیکن اگر ہمارے سر پر یہی بھوت سوار رہاکہ تعلیمی ادارے نجی سیکٹر کے حوالے کئے بغیر ہم معیار تعلیم بہتر نہیں بناسکتے ، یا خسارے پورے نہیں کرسکتے ، تو پھر اس شعبے کا خدا ہی حافظ ہے ۔
|