|
”دعا کی چھت گری“ (حافظ مظفر محسن) |
|
|
|
پالو میراثی ۔۔نے دعا کی۔۔”یا اللہ آج کہیں سے بھی کھانے کو روٹی نہیں آ رہی تو اس گھر کی چھت ہی گرا دے“ دعا ختم ہوتے ہی۔۔۔دھڑام ۔۔چھت گر گئی۔ پالو میراثی چھت پر لگے موٹے گارڈر کے نیچے زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا کسی معجزے کا منتظر تھا۔ اہل محلہ چھت گر نے کی خوفناک آ واز سن کر پالو میراثی کے چھوٹے سے بوسیدہ گھر کی طرف بھاگے شدید بارش اور تیز ہوا کے باعث لوگوں کو پرانے دور کی بنی اس بھاری بھر کم چھت کا ملبہ اٹھانے میں خاصی مشکل پیش آ رہی تھی۔جذباتی نوجوانوں نے لوہے کے بڑے بڑے گارڈر ادھر ادھر ہٹائے تو نیچے سے پالو میراثی کے کراہنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے لگتا ہے پالو زندہ ہے ”اوئے پہلے مجھے نکالو پھر نیلا م گھر کی طارق عزیز کی طرح سوال جواب کر لینا“ سب لوگ ہنس دیئے اور کام کی رفتار تیز کر دی ایک نوجوان نے موقع کی مناسبت سے بات بڑھائی۔۔۔اگر پالو کے گھر کی چھت دو دن پہلے گری ہوتی تو آج پالو کے قل شریف کا ختم ہو رہا ہوتا۔ بھاری گارڈر کے نیچے سے پھر صدا بلند ہوئی۔اور تجھ غریب کو مفت کا کھانا نصیب ہو جاتا۔۔۔ہائے بے غیرتو ! مجھے باہر نکالو“۔۔! وہ درد کا مارا چیخ رہا تھا۔چھوٹے بڑے عورت مرد سب پالو سے ہنسی مذاق کی باتیں کر کے خوش ہوتے اور وہ ہر مذاق کا جواب ایسا دیتا کہ ماحول خوشگوار ہو جاتا سننے والے کی ہنسی چھوٹ جاتی۔۔۔ دیکھنے والوں کی باچھیں کھل جاتیں وہ ایک روائتی گھرنے کا آخری چشم و چراغ تھا۔ قیام پاکستان کے وقت امرتسر سے ہجرت کے دوران پالو میراثی کے گھر کے تقریباًسبھی لوگ راستے میں ہی سکھوں کے ظلم و تشدد کا شکار ہو گئے ایک بوڑھی ماں بچی جو چند سال زندہ رہی اسے اپنے عزیز پیارے سدا یاد آتے اور دس سال پہلے وہ بیچاری بھی پالو کو اکیلا چھوڑکر دنیا سے رخصت ہو گئی۔ کلیم میں تین مرلے کا یہ گھر پالو کے حصے آیا۔۔پالو نے محلے داروں کو صاف صاف کہہ دیا۔۔۔مجھ سے کوئی کام کاج نہیں ہوتا۔۔۔تم لوگوں کی رشتے داریاں کروانا ہوں گی۔۔۔ شادی بارات کے ساتھ جانا ہو گا دیگر چھوٹی موٹی خدمات کے لئے میں حاضر ہوں اور اہل محلہ نے کہا۔۔کہ تم ہجرت کر کے اس گجرات شہر میں ہمارے ساتھ آئے تھے لہذا یہ ساتھ نہیں چھوٹے گا۔۔تینوں وقت کا کھانا، دیگر ضروریات محلے دار مل کے پوری کر لیں گے محلے کی بیٹیوں کو اکھٹا کر کے اسکول کالج پہنچانا واپس لے کے آنا یہ سب پالو میراثی کی بنیادی ذمہ داریا ں تھیں۔ہر وقت ہنسی مذاق محفلوں کو کشت ذعفران بنائے رکھنا۔۔۔یہ پالو کا معمول تھا ۔۔پالو سے گفتگو کرنے کے لئے ضروری تھا کہ بندہ پوری طرح حاضر ہو ورنہ پالو مذاق اور شرارت سے ایسا چت کرتا کہ سامنے والے سے اٹھا نہ جاتا۔ آج اچانک آندھی آئی اور ساتھ ہی شدید بارش شروع ہو گئی۔۔۔ایک بجے شروع ہونے والی یہ بارش ، اڑھائی بجے تک جاری تھی۔۔۔ اس وقت کا کھانا شیخ منصور کے گھر سے آ یا کر تا تھا جو ان کے بیٹے تیمور کی ذمہ داری ہوتی۔بارش کے باعث شیخ تیمور بر وقت کھانا نہ لا سکا ۔بھوک اپنے عروج پر پہنچ گئی۔۔۔ اور جب آنتیں قل ہو واللہ پڑہنے لگےں۔۔۔شوگر لو ہونے سے ٹانگیں بے جان ہونے لگیں تو پالو میراثی نے شیخ منصور اور اس کی ناہنجار اولاد پر فقرے بازی شروع کر دی۔۔ جب بارش اور جھکڑ چلنے سے آواز متعلقہ گھرانے تک نہ پہنچی تو شیخ منصور کے گھر کی طرف کھڑکی سے منہ نکال کے پالو نے کہا۔۔ ظالمو کھانا بھیج دو یا کہ میرے مرنے کا انتظار کر رہے ہو۔ جب کسی نے نہ سنی تو پالو نے آسمان کی طرف منہ کر کے بلند آواز میں دعا مانگی۔۔”اے اللہ اس بھوک کے ہاتھوں مر رہا ہوں۔۔۔تو یہ چھت ہی گرا دے۔۔۔نہ میں رہوں نہ بھوک کا عذاب جھیلنا پڑے۔۔”دھڑام“ چھت سر پر آن گری۔ نیچے سے نکالا۔۔ تو پالو کو دیکھ کر اہل محلہ خوب پریشان بھی ہوئے اور ہنسی کے فوارے بھی چھوٹ رہے تھے۔۔”پالو۔۔۔ اور کچھ ہو نہ ہو۔۔۔تمہاری دعائیں قبول ہونے لگی ہیں“۔۔تم بھی کہو میں نے اپنے مرنے کی دعا مانگی تھی۔۔۔میں تمہارے مرنے کی بھی دعائیں مانگ دیتا ہوں۔۔کمینے لوگو۔۔۔میرے کمینے محلے دارو! پالو کی دعا قبول ہو گئی۔۔۔چھت سر پر آ پڑی اللہ نے پالو کو بچا لیا۔۔اپنے محلے داروں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے کے لئے۔۔۔ لیکن ہمارے چینل پر آنے والے کمپیئر، اینکر پرسن ایسی ایسی بات میرے پیارے وطن کے حوالے سے منہ سے نکالتے ہیں کہ دل دہل جاتا ہے ۔۔۔یہ نہ ہو جائے وہ نہ ہو جائے۔اس ساری تمہید باندھنے اور سچی کہانی سنانے کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ اپنی بات میں خوامخواہ وذن پیدا کرنے کے لئے بات بڑھانے کے لئے وقت گزاری کے لئے خود کو بہت بڑا محب وطن پاکستانی ثابت کرنے کے لئے خود کو بہت بڑا دور اندیش ثابت کرنے کے لئے پاکستان کے بارے میں منفی قسم کی گفتگو نہ کیا کریں کہ وہ جو بڑے بوڑھے نے کہا ہے کہ کسی وقت منہ سے اچھی بری بات نکلی پوری ہو جاتی ہے۔ پاکستان، پاکستان کی سلامتی اور پاکستان کے مستقبل کی بات ہو تو سوچ سمجھ کر مثبت بات کیا کریں۔ پاکستان ہے تو یہ ساری خوبصورتیاں ہیں، یہ ساری خوشیاں ہیں اور ہم بھی ہیں ۔۔۔بجلی کا شارٹ فال بہت تھوڑا رہ گیا ہے زرداری صاحب کی حکومت۔۔۔اوہ۔۔۔سوری یوسف رضا گیلانی کو حکومت تین سال سے منصوبہ بندیاں کر تی چلی جارہی ہے بجلی کا بحران دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے وہ خوش ہیں کہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں کل عوام کے سامنے جائیں گے تو راجہ پرویز اشرف کو چھپا لیں گے ہم سے عوام پوچھیں گے تو کہہ دیں گے کہ ہم نے بجلی کا تو وعدہ ہی نہیں کیا تھا وہ تو راجہ پرویز اشرف نے کیا تھا۔۔۔ اسے اگر تلاش کر سکیں تو کر لیں اور پوچھیں میاں کیوں کرتے رہے جھوٹے وعدے۔۔۔ہم نے تو روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا تھا چونکہ روٹی والے وعدے میں شہباز شریف نے ٹانگ اڑا دی تھی لہذا شہباز شریف سے پوچھیں سستی روٹی اسکیم کے خالق سے۔۔۔۔کپڑا اور مکان ہم نہیں دے سکے شرمندہ ہیں مزید اقتدار پر پانچ سال بٹھا دیں۔۔۔ یہ دو چیزیں جن کے پاس نہیں ہیں ان کو دلا دیں گے۔۔۔میری تازہ نظم ”مو م بتی“ ملاحظہ کریں یہ سچ ہے کہ یہ نظم مےں نے رات آٹھ بجے سے دس بجے تک ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے دوران بیٹھ کر لکھی ہے پسینے میں شرابور ہوتے ہوئے۔۔۔ تجھے دیکھتے ہیں قدر کی نگاہ سے تیرے قدر داں ہر گھڑی موم بتی تیرے گیت گاتے ہیں اور جھومتے ہیں تیرے مہرباں ہر گھڑی موم بتی میں محسوس کرتا ہوں تیرے ذکر پر خفا حکمراں ہر گھڑی موم بتی ہائے سوچتا ہوں یہ جو یو۔پی۔ ایس ہے تجھ سا کہاں ہر گھڑی موم بتی تیرا ذکر کرتی تھی گیتوں میں اپنے نور جہاںہر گھڑی موم بتی اندھیرا ہے، طالب ہیں چھوٹے بڑے سب کوٹھی مکاںہر گھڑی موم بتی اندھیرے میں رونق بڑھی تیرے دم سے یہ پیارا دھواں ہر گھڑی موم بتی
|