|
منگل, 15 جون 2010 18:12 |
|
پنجاب کا مالی سال 2010-11ءکے لئے 582.208ارب کا ٹیکس فری بجٹ اسمبلی میں پیش کر دیا گیا‘ پنجاب کے بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ 5کھرب 58اب روپے لگایا گیا ہے جس میں وفاق سے قابل تقسیم محاصل سے ہونےوالی آمدنی کا تخمینہ 435ارب 50کروڑ 3لاکھ روپے ‘ براہ راست ٹرانسفر کی مد میں 6ارب 26کروڑ 30لاکھ روپے ‘وفاقی گرانٹ سے 2ارب 84کروڑ ‘ صوبائی ٹیکس ریو نیو 91ارب 57کروڑ 80لاکھ روپے اور صوبائی نان ٹیکس ریو نیو کی مد میں 24ارب 63کروڑ 20لاکھ روپے موصول ہونے کی توقع ہے ‘ بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لئے ترقیاتی بجٹ کا حجم 193ارب 50کروڑ روپے رکھا گیا ‘ بجٹ میں سرکاری ملازمین کو انکی تنخواہوں کے 50فیصد کے برابر ایڈہاک ماہانہ الاﺅنس ‘2001ءسے پہلے ریٹائرہونےوالوں کی پنشن میں 20فیصد اور 2001ءکے بعد ریٹائر ہونےوالے ملازمین کی پنشن میں 15فیصد اضافے کا اعلان کیا گیاجبکہ وزراءکی تنخواہیں 25فیصد کم کر دی گئی‘بجٹ میں محکمہ پولیس کے بجٹ میں 49.7ارب ‘صحت کے شعبہ میں ترقیاتی و جاری اخراجات کے لئے مجموعی طور پر 43ارب80کروڑ ‘تعلیم کےلئے ترقیاتی او رجاری اخراجات کے لئے مجموعی طور پر 53ارب 99کروڑ روپے رکھے گئے ہیں‘ آئندہ مالی سال میں غریب اور نچلے متوسط طبقہ کی امداد کےلئے شروع کی گئی سکیموں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جن پر سبسڈی 15ارب سے بڑھا کر 21ارب کر دی گئی ‘سرکاری بقایاجات کی ادائیگی پر چھوٹے مزارعین کی لیز میں توسیع کرنے کی سکیم متعارف کروائی جائیگی جبکہ دیہی علاقوں میں تقریباً2لاکھ غریب گھرانوں کوپانچ مرلہ فی خاندان اراضی مفت فراہم کی جارہی ہے‘بجٹ میںجیل خانہ جات کے لئے 3.82ارب‘عدالتی نظام کے لئے 96.6روپے ‘زرعی شعبے کے لئے بغیر کمی بیشی 3 ارب 20کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے‘واٹر سپلائی و سینٹیشن کے لئے 9.5ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کا مالی سال 2010-11کے لئے بجٹ صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ نے پیش کیا ۔ بجٹ اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خاں کی صدارت میں شروع ہوا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس سے قبل سپیکر پنجاب اسمبلی نے 18ویں ترمیم کی منظوری کے تحت نیا حلف اٹھا یا جبکہ ضمنی انتخاب میں کامیاب ہونےوالے چار نو منتخب اراکین اسمبلی سے بھی حلف لیا گیا ۔ بجٹ تقریر کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ نے کہا کہ میرے لئے یہ امر باعث اعزاز ہے کہ مجھے ایوان میں مسلسل تیسری بار پنجاب کی جمہوری حکومت کا سالانہ بجٹ پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ معزز ایوان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ جب سے موجودہ حکومت نے صوبہ پنجاب میں ذمہ داریاں سنبھالی ہیں بین الاقوامی اور قومی معیشت کو غیر معمولی بحران کا سامنا رہا ہے۔ اس بحران کے نتیجہ میںجہاں پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ ریٹ 1.2 فیصد کی تشویشناک حد تک کم ہو گیا وہاں افراط زر کی شرح 25فیصد تک جا پہنچی۔ اس شرح میں یہ کمی اور افراط زر کی شرح میں اس قدر اضافہ پچھلے کئی عشروں سے دیکھنے میں نہیں آیا۔ ملک میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران اور اس کے نتیجہ میں بجلی او رگیس کی متواتر لوڈ شیڈنگ نے ہمارے صوبہ کی صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی جس سے دوسروں صوبوں کی طرح پنجاب کی معیشت بھی متاثر ہوئی۔پنجاب حکومت نے صوبے کی معیشت کو درپیش اقتصادی اور معاشی مسائل کا پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ سامنا کیا اور ان تمام منفی عوامل کے باوجود اپنی انتظامی اور مالی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ہماری یہ کوششیں کس حد تک ثمر آور ہوئیں اس کا ایک اندازہ پنجاب اکنامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مندرجات اس امر کے شاہد ہیں کہ پنجاب کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔ پنجاب کا جی ڈی پی گروتھ ریٹ رواں مالی سال میں Provisionalاعداد وشمار کے مطابق پچھلے سال کی 1.2فیصد کی شرح سے اب بڑھ کر 4.25کی شرح تک پہنچ گیا ہے۔ آئندہ سال اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔س حقیقت سے کون آگاہ نہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی گروتھ ریٹ میں ہونے والا اضافہ دراصل قومی گروتھ ریٹ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے کئی برسوں سے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ہماری مسلح افواج‘ پولیس اور عوام جس ہمت اور جوانمردی سے اس عفریت کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ ہر اعتبار سے قابل تحسین ہے۔ پنجاب حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے پولیس افسروں‘ جوانوں اور شہریوں کے اہلخانہ کے احساسات اور مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور اس نے ان متاثرہ خاندانوں کی اخلاقی اور مالی مدد میں کبھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ہر وفاق کی طرح پاکستان کے صوبے بھی وسائل کے حصول کیلئے مرکز کی طرف دیکھتے رہے ہیں۔ پاکستان میں کسی منصفانہ متوازن اور متفقہ این ایف سی ایوارڈ کی عدم موجودگی میں صوبے ان وسائل کی تقسیم کے حوالے سے نہ صرف مرکز سے نالاں رہے بلکہ یہ صورتحال خود صوبوں کے درمیان بھی رنجشوں کو جنم دینے کا باعث بنی۔ بدقسمتی سے پنجاب کو اس ضمن میں چھوٹے صوبوں کی طرف سے تنقید کا زیادہ نشانہ بننا پڑا۔ الحمد اللہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے ان رنجشوں کو ختم کرکے پاکستان میں صوبوں کے درمیان رواداری‘ افہام وتفہیم اور ایثار وقربانی کی لائق تحسین بنیادیں فراہم کیں۔ پنجاب کو پاکستان کے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے اس تاریخی اجلاس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے جس میں این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے کیا گیا۔ اس ایوارڈ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جس فہم وفراست‘ دور اندیشی اور معاملہ فہمی سے کام کیا وہ ہر اعتبار سے لائق تحسین ہے۔ ایوارڈ کی منظوری میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی خدمات کا اعتراف تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی حکومت برملا کر چکی ہے۔اس ایوارڈ کے تحت پنجاب نے چھوٹے صوبوں خصوصاً بلوچستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس جذبہ ایثار کا اظہار کیا اس کا تذکرہ پاکستان میں قومی یکجہتی اور اتحاد کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔میں اس معزز ایوان کو یہ بتاتا چلوں کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے پنجاب کو آئندہ مالی سال میں وفاق قابل تقسیم محاصل میں سے 51ارب روپے اور سروسز پر جی ایس ٹی کی مد میں اضافی 47ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔ اس طرح آئندہ برس پنجاب کو مجموعی طور پر 98ارب روپے کے اضافی وسائل حاصل ہونے کی توقع ہے۔پاکستان کے آئین کے مطابق Hydel Power Projectsپر net profit کا حق اس صوبے کو تفویض کیا گیا ہے جہاں پر پاور پراجیکٹ واقع ہو۔ 1996ءسے پنجاب کو اس کے Hydel Power Projectsپر net Hydel profit کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ گزشتہ حکومت نے پنجاب کے اس حق کے لئے کوشش کرنا تو ایک طرف سوچنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ذاتی کاوشوں کے نتیجہ میں آپ کی منتخب حکومت اپنا یہ حق تسلیم کروانے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ہم وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس ضمن میں حکومت پنجاب سے بھرپو تعاون کیا۔ میں نہایت مسرت کے ساتھ یہ اعلان کر رہا ہوں کہ اس ضمن میں سال 2004-05ءتک کے واجبات کا تعین کرنے کے بعد اس مد میں 28.2ارب روپے کی رقم پر پنجاب کا حق تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس رقم میں سے رواں مالی سال میں وفاق نے پنجاب کو 13ارب روپے ادا کر دئیے ہیں اور بقیہ 15.2ارب روپے کی رقم آئندہ تین برسوں میں مساوی اقساط میں پنجاب کو ادا کر دی جائے گی۔ سال 2005-06سے بعد کے عرصے کے واجبات کے تعین اور وصولی کیلئے وفاقی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔این ایف سی ایوارڈ کی کامیابی اور Net Hydel Profitکے حصول نے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ ایک منتخب جمہوری قیادت ہی مشکل او رپیچیدہ قومی مسائل کو بطریق احسن حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مجھے یہاں یہ کہنے کی بھی اجازت دیجئے کہ این ایف سی ایوارڈ اور اٹھاروہویں آئینی ترمیم اس قومی یکجہتی اور قومی وحدت کے ثمرات ہیں جس کا اظہار محترمہ شہید بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ کے قائد محترم محمد نواز شریف نے چارٹر آف ڈیمو کریسی میں کیا تھا۔اٹھارہویں آئینی ترمیم سے جہاں ہم نے صوبائی خود مختاری کی طرف ایک اہم پیشرفت کی ہے وہاں concurrent listختم ہونے سے صوبے کی انتطامی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ حکومت پنجاب اپنی نئی آئینی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی موجودہ ذمہ داریوں کے پیش نظر کی گئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ جونہی اضافی ذمہ داریاں وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونگی ان ذمہ داریوں کی نسبت سے ان کے مالی وسائل بھی وفاق سے صوبوں کو منتقل کر دئیے جائیں گے۔آپ کو یاد ہو گا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی حکومت کی جن ترجیحاات کا ذکر کیا تھا ان میں:فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اور عوام کے جان ومال کا تحفظ‘غربت میں کمی اور غریب اور متوسط طبقہ کو سہولیات کی فراہمی‘تعلیم کا فروغ اور محنتی اور ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی‘صحت عامہ کی سہولیات کا فروغ زراعت کی ترقی اور کسانوں خصوصا چھوٹے کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ سرفہرست ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ صرف وہ قومیں ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار ہوئیں جنہوں نے اپنے فیصلے انصاف سے کئے اور پوری ذمہ داری سے ان فیصلوں پر عملدرآمد کیا۔ عوام کے لئے فوری اور سستے انصاف کے حصول کو ہم ایک مشن سمجھتے ہیں۔ ہماری حکومت نے ایک missionaryجذبہ کے تحت عدلیہ اور ماتحت عدالتوں کو مالی وسائل فراہم کرنے کیلئے پہلا قدم اٹھایا ہے۔ پنجاب حکومت صوبے میں آزاد اور خود مختار عدلیہ کے استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔لوگوں کے جان ومال کے تحفظ اور صوبہ میں امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ہماری حکومت نے پولیس فورس کو جدید خطوط پر مسلح اور منظم کرنے کے متواتر اقدامات کئے ہیں۔ رواں مالی سال میں پولیس کے لئے مختص کردہ فنڈز 43ارب 27کروڑ روپے کے تھے انہیں بڑھا کر اگلے مالی سال میں 49ارب 20کروڑ کرنے کی تجویز ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 13فیصد زیادہ ہے۔غربت میں کمی اور محروم معیشت طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام کے کاندھوں پر زندگی کے مسائل کے بوجھ کو کم کرنا ہماری اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے۔ غریب اور کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے لئے سستی روٹی سکیم‘ آٹے کی قیمت کو پورے پنجاب میں مناسب سطح پر رکھنے کیلئے Wheat subsidyاور رمضان المبارک کے دوران عوام کو سستا آٹا اور چینی فراہم کرنے کے اقدامات انہی محروم معیشت طبقات کے ساتھ حکومت کے عہد وفا کی گواہی دیتے ہیں۔ حکومت نے اس برس مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کا بوجھ بٹانے کیلئے تقریباً 15ارب روپے کی رقم سبسڈی کے طور پر فراہم کی۔میں آپ کے توسط سے اس معزز ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ غریب اور نچلے متوسط طبقہ کی امداد کیلئے شروع کی گئی سکیمیں جاری رکھی جائیں گی۔ 2010-11ءکے بجٹ میں pro-poorسکیموں کی مد میں دی جانے والی سبسڈی کو 15ارب روپے سے بڑھا کر 21ارب روپے کیا جا رہا ہے۔ اس 21ارب روپے کی خطیر سبسڈی میں گندم پر 13ارب روپے‘ سستی روٹی سکیم پر 5ارب روپے‘ رمضان پیکیج پر 2ارب روپے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ایک ارب روپے شامل ہیں۔کون نہیں جانتا کہ زمین کی قیمتوں اور تعمیراتی اخراجات میں ہوش ربا اضافے کے باعث اپنے گھر کی تعمیر غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام کے لئے ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ میں نہایت مسرت کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ حکومت پنجاب نے صوبہ میں غریب اور کم وسیلہ طبقات کی قوت خرید کو پیش نظر رکھتے ہوئے کم لاگت والے تیار شدہ آرام دہ اور معیاری گھر مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی تشکیل دی جا چکی ہے جس نے سرکاری اور نجی شعبہ کے باہمی تعاون سے گھروں کی تعمیر کیلئے سرکاری زمینوں کا سروے شروع کر دیا ہے۔ اس کمپنی کو 250ملین روپے کی seed moneyدی جا چکی ہے۔ اگلے سال اس مد میں 100فیصد اضافے کے ساتھ 500ملین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔دیہی علاقوں میں تقریبا 2لاکھ غریب گھرانوں کو پانچ مرلہ فی خاندان اراضی مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ سرکاری بقایا جات کی ادائیگی پر چھوٹے مزارعین کی leaseمیں توسیع کرنے کی سکیم متعارف کروائی جا رہی ہے۔ اس سکیم سے تقریبا 29,000غریب خاندان مستفید ہونگے۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کا جائزہ لیں تو ان ممالک کی معاشی اور اقتصادی ترقی میں تعلیم کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل نظر آتا ہے۔ صوبے میں تعلیم کا فروغ اور تعلیمی معیار میں اضافہ پنجاب حکومت کی ترجیحات میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ صوبے میں عام تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اور پیشہ وارانہ تعلیم کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کم وسیلہ مگر ہونہار طلبہ کو معیاری تعلیم دلانے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کے عملی اقدامات کئے جار ہے ہیں۔یہ حقیقت ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں کہ پنجاب کی 41فیصد آبادی ابھی تک تعلیم کے زیور سے محروم ہے۔ حکومت کا یہ عزم ہے کہ وہ 2015تک سکول جانے کی عمر کے ہر بچے کو تعلیم تک رسائی مہیا کرے گی۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے کئی پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔میں نے ابھی کم وسیلہ مگر ہونہار طلبہ کو معیاری اور اعلیٰ تعلیم دلانے کیلئے پنجاب حکومت کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اس مقصد کیلئے قائم کئے گئے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ میں اب تک 4ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کی جا چکی ہے۔ آئندہ مالی سال میں اس فنڈ کیلئے مزید 2ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ آئندہ تین برس کے عرصے میں یہ فنڈ 10ارب روپے کے وسائل حاصل کر لے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس فنڈ کی موجودگی میں پنجاب کا کوئی ہونہار او رباصلاحیت طالبعلم محض وسائل کی کمی کی بنا پر پاکستان میں یا بیرون ملک اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔تعلیمی میدان میں پوزیشن ہولڈرزکی صلاحیتوں کے اعتراف اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے انہیں ایوارڈ دینے کے علاوہ سرکاری خرچ پر بیرون ممالک کے تعلیمی دورے کروائے جا رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں بھی پوزیشن ہولڈرزکی حوصلہ افزائی کے سلسلہ کو جاری رکھا جائے گا جس کے لئے16کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے اور ان کے غیر ملکی مطالعاتی دورے کے لئے 5کروڑ 50لاکھ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے ۔اساتذہ کی تربیت اور امتحانی نتائج میں غیر معمولی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کیلئے انعامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ان مدوں میں آئندہ مالی سال میں 10کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔وہ معذور طالبعلم جو عام سکولوں میں تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہونگے ان کیلئے ان عام سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔رواں مالی سال میں طالبعلموں میں ایک ارب 80کروڑ روپے کی text books مفت جاری کی گئیں۔ آئندہ سال بھی ایک ارب 80کروڑ روپے کی ٹیکسٹ بک مفت تسلیم کی جائیں گی۔اس برس پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بچیوں میں تشویشناک حد تک کم شرح خواندگی کے پیش نظر میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے والی طالبات میں ایک ارب روپے کے وظائف جاری کئے گئے۔ آئندہ مالی سال میں ان علاقوں کی طالبات میں ایک ارب 5کروڑ روپے کے وظائف مختص کئے گئے ہیں۔حکومت پنجاب نے اس برس طلبہ کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے آگاہ کرنے کیلئے 4ارب 90کروڑ روپے کی لاگت سے 4,286سرکاری سکولوں میں جدید آئی ٹی لیب کے انقلابی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔پنجاب میں انجینئرنگ کی تعلیم کیلئے سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دوسرے صوبوں کے مقابلہ میں نشستوں کی شرح نسبتا کم ہے۔ پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال سے انجینئرنگ کی تعلیم کیلئے سرکاری یونیورسٹیوں او رکالجوں میں موجود نشستوں کی تعداد میں 300نشستوں کا اضافہ کیا جائے گا اور آئندہ چار برسوں میں اس تعداد کو بڑھا کر 1200تک لے جایا جائے گا۔ اسی طرح حکومت نے صحت عامہ کی سہولتوں کو وسعت دینے کیلئے میڈیکل کالجوں کی نشستوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ ستمبر 2010ءسے شروع ہونے والے تعلیمی سال سے صوبے کے موجودہ میڈیکل کالجوں میں 452نشستوں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگلے سال کے دوران صوبے میں چار نئے میڈیکل کالجوں کی تعمیر مکمل ہونے پر اس تعداد میں مزید 550نشستوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ جس سے مجموعی طور پر ہر سال 1000سے زائد اضافی ڈاکٹر تیار کئے جائیں گے۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ تعلیم کا شعبہ حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اگلے مالی سال میں اس شعبہ میں ترقیاتی اور جاری اخراجات کےلئے مجموعی طور پر 53ارب 99کروڑ روپے کی رقم رکھی جا رہی ہے جو کہ رواں مالی سال کے تخمینہ سے 12فیصد زیادہ ہے۔تعلیم کی طرح صحت بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ اس کیلئے آئندہ مالی سال میں ٹیچنگ ہسپتال‘ ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو میں تمام مریضوں کو ادویات کی فراہمی کیلئے 6ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ضلعی اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کیلئے ایک ارب ساڑھے 27کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے۔ یہ رقم ضلعی حکومتوں کی طرف سے فراہم کردہ بجٹ کے علاوہ ہو گی۔اگلے مالی سال میں مفت dialysisکی سہولت کا دائرہ کا رصوبے بھر میں پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے 30کروڑ کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔آئندہ برس کے دوران ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا اور غلام محمد آباد ہسپتال فیصل آباد کی تکمیل کیلئے درکار تمام فنڈز مہیا کر دئیے جائیں گے۔آئندہ برس کے دوران راولپنڈی میں ایک جدید ترین کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ قائم کیا جا رہا ہے اس انسٹیٹیوٹ کی تکمیل کو 2010-11ءکے دوران ہی یقینی بنایا جائے گا۔آئندہ برس ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کیلئے 33کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔حکومت نے صحت عامہ کی سہولتوں کو وسعت دینے کیلئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جدید ترین موبائل ہسپتالوں کو متعارف کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ آئندہ برس کے اختتام تک صوبے میں اس طرح کے 22موبائل ہسپتال اپنا کام شروع کر دیں گے۔ اس منصوبے کے آغاز کیلئے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کا ترجیحی بنیادوں پر انتخاب کیا گیا ہے۔حکومت نے آئندہ برس کے دوران صوبے میں کڈنی سنٹرز کے علاوہ لیور ٹرانسپلانٹ کے مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیور ٹرانسپلانٹ کے یہ مراکز پاکستان میں قائم کئے جانے والے اولین مراکز ہونگے۔ یہ مراکز چلڈر ہسپتال لاہور‘ ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی اور نشتر ہسپتال ملتان میں قائم کئے جا رہے ہیں۔پنجاب حکومت نے جذبہ خیر سگالی کے تحت صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ کے مقام پر جدید سہولتوں سے مزین 2ارب روپے کی لاگت سے ہسپتال برائے امراض قلب کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس مقصد کیلئے اگلے مالی سال میں ایک ارب روپے کی رقم متخص کرنے کی تجویز ہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کے شعبہ میں ترقیاتی وجاری اخراجات کےلئے مجموعی طور پر 43ارب 80کرور روپے مختص کئے جا رہے ہیں جو رواں مالی سال کے تخمینہ کے مقابلے میں 16.6فیصد زیادہ ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کون نہیں جانتا کہ بیروزگاری ہمارے معاشرے کے لئے ایک سنگین مسئلے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس مسئلے سے ہمارا نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس صورتحال کے نتیجہ میں ہمارے نوجوانوں میں مایوسی اور بے یقینی کے رجحانات خطرناک شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ آپ کی حکومت نے باصلاحیت نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے Punjab Youth Employment Fundقائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ حکومت پنجاب کا یہ اقدام معاشرے میں انہیں صحیح مقام دلانے اور انتہا پسندی جیسے رجحانات سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہو گا۔حکومت نے اسی سمت میں ایک اور مثبت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت زرعی اور ویٹرینری گریجوایٹس کو 25ایکڑ فی کس کے حساب سے سرکاری زمین 15سال کی leaseپر دی جائے گی۔ اس زمین پر ماڈل زرعی فارم بنانے کیلئے 9لاکھ روپے فی زرعی گریجوایٹ قرضہ فراہم کیا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت جہاں ایک طرف زرعی گریجوایٹس میں پائی جانے والی بیروزگاری پر قابو پایا جائے گا وہاں صوبے میں تقریباً 30,000ایکڑ رقبہ کو زیر کاشت لانے پر جنگلات اور زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کی توقع ہے۔Urbanizationکی وجہ سے پنجاب کے بڑے شہروں کی آبادی میں گزشتہ چند برسوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے ان شہروں میں پیدا ہونے والے مسائل میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ Solid Wasteکے مناسب انتظام کا فقدان ہے۔ چنانچہ حکومت پنجاب اگلے مالی سال میں جدید اور Scientificخطوط پر مبنی Solid Waste Managementکا نظام قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ابتدائی طور پر اس مقصد کیلئے 2ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ میں آپ کے توسط سے اس معزز ایوان کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ نظام برادر اسلامی ملک ترقی کے ماہرین کے تعاون اور اشتراک سے قائم کیا جا رہا ہے اور یہ ہر لحاظ سے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو گا۔حکومت نے صوبے کے بے زمین کاشتکاروں کو تقریباً 4لاکھ ایکڑ اراضی leaseپر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ زمین ناجائز قابضین سے چھڑوا کر ایک نہایت شفاف عمل کے ذریعے غریب کاشتکاروں کو دی جا رہی ہے۔ اس عوامی فلاحی پروگرام سے صوبے کے 40,000خاندان مستفید ہونگے۔صوبے کے طول وعرض میں واقع ایسی سرکاری املاک جو کسی مصرف میں نہیں یا قبضہ گروپوں کے تصرف میں ہیں اور آئندہ بھی عوام کسی فلاحی منصوبے کے لئے ان کے استعمال کا امکان نہیں ہے ان کو نیلام کر کے حاصل ہونے والے رقوم کو ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ اس نجکاری کے عمل میں تین باتوں کا بطور خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یعنی ایک تو نیلامی کا سارا عمل شفاف طریقہ سے ہو۔دوسرے نجکاری سے حاصل ہونےوالی رقوم صرف ان اضلاع میں خرچ کی جائیں جہاں سے یہ رقوم وصول کی جائیں‘تیسرے نجکاری سے حاصل ہونیوالی رقوم صرف ان اضلاع میں خرچ کی جائیں جہاں سے یہ رقوم وصول کی جائیں‘رواں مالی سال میں تقریباً 4 ارب روپے مالیت کی سرکاری املاک کی نجکاری ہوئی ہے آئندہ مالی سال میں اس مد میں 12 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ موجودہ مالی سال کے شروع میں حکومت نے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کیلئے ایک جامع action plan تیار کیا تھا۔ کفایت شعاری کے اس پلان پر سختی سے عمل کیا گیا اور اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ میں فرنیچر‘ مشینری اور تعیش گاڑیوں کی خرید پر غیر ضروری اخراجات نہ کئے جائیں۔29۔ میں یہاں اعلان ضروری سمجھتا ہوں کہ وزیراعلی پنجاب نے آئندہ بجٹ میں وزیر اعلی سیکرٹریٹ کیلئے رکھی گئی رقم میں سے 25 فیصد رقم رضا کارانہ طور پر استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوںنے ایوان کے سامنے آئندہ مالی سال کے محصولات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2010-11 میں General Revenue Receipts کا تخمینہ 558 ارب 38 کروڑ روپے ہے۔ اس میں NFC ایوارڈ کے تحت Divisible pool سے حاصل ہونیوالی آمدنی کا تخمینہ 435 ارب 50 کروڑ 3 لاکھ روپے ہے۔ براہ راست ٹرانسفر کی مد میں 6 ارب 26 کروڑ 30 لاکھ روپے ملنے کی توقع ہے۔صوبائی ٹیکس ریونیو 91 ارب 57 کروڑ 80 لاکھ روپے اور صوبائی نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 24 ارب 63 کروڑ 20 لاکھ روپے موصول ہونے کی امید ہے۔ جو رواں مالی سال کے آمدنی کے تخمینہ سے 31 فیصد زیادہ ہے۔مالی سال 2010-11 میں جاری اخراجات کا تخمینہ کے مطابق جاری اخراجات کا کل تخمینہ 386 ارب 78 کروڑ روپے ہے۔ ان جاریہ اخراجات اور net public account کا 3 ارب روپے کا deficit منہا کرنے کے بعد 168 ارب روپے کا net revenue surplus حاصل ہوگا جو ترقیاتی پروگرام کے لئے فراہم کیا جائیگا۔ اس کے علاوہ current capital receipts کی مد میں فیڈرل گرانٹس 68 کروڑ روپے‘ foreign project assistance کے طور پر 12 ارب 59 کروڑ روپے اور privatization receipts کی مد میں 12 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نہایت مسرت سے یہ اعلان کر رہا ہوں کہ مالی سال 2010-11 کے دوران ترقیاتی بجٹ کا حجم 193 ارب 50 کروڑ روپے کا ہو گا جو کہ صوبے کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ترقیاتی بجٹ ہوگا۔ یہ بجٹ رواں مالی سال کے Revised ترقیاتی بجٹ کے تخمینہ 134 ارب 70 کروڑ روپے سے 58 ارب 80 کروڑ روپے زیادہ ہے‘مالی سال 2010-11 کے ترقیاتی بجٹ کی منصوبہ بندی کرتے وقت جن بنیادی اصولوں کو مد نظر رکھا گیا ہے ان میں جامع ترقی‘غربت مین کمی‘روزگار کے مواقع میں اضافہ‘صحت‘ تعلیم اور سہولیات زندگی سے متعلق شعبہ جات کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈ کی فراہمی‘نیا انفراسٹرکچر کا قیام اور موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور بہتری‘ صنعتی اور زرعی پیداوار میں اضافہ‘ خوراک‘ پانی اور توانائی کی صورتحال میں بہتری‘پرائیویٹ سیکٹر کی تمام شعبوں میں شراکت کیلئے حوصلہ افزائی اور ساز گار ماحول کی فراہمی‘ ترقی کے عمل میں علاقائی توازن اور خواتین کی شمولیت اور جاری ترقیاتی سکیموں کی ترجیحی بنیادوں پر تکمیل شامل ہے ۔آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں سماجی شعبہ جات جن میں تعلیم‘ صحت‘ فراہمی و نکاسی آب اور سماجی و بہبود وغیرہ شامل ہیں‘ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اگلے سال کے ترقیاتی پروگرام میں ان شعبہ جات کیلئے 68 ارب 25 کروڑ روپے سے زائد رقوم مہیا کی جارہی ہیں جو کہ موجودہ مالی سال کے نظر ثانی شدہ بجٹ سے 14 فیصد زائد ہے۔ تعلیم کے شعبہ کے لئے ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 23 ارب 30 کروڑ روپے ہے‘ اگلے مالی سال کے بجٹ میں غریب عوام کے بچوں کی تعلیم کیلئے اعلی ترین سطحی کے تعلیمی اداروں یعنی دانش سکولز کے لئے 3 ارب روپے مہیا کئے جائیں گے‘ ہائی سکولوں میں سائنس لیبارٹریوں کے قیام کے لئے ایک ارب روپے رکھے جا رہے ہیں جبکہ ایلمینٹری اور ہائی سکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کے لئے پچاس کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں‘اگلے مالی سال 2010-11 میں 800 سے زائد پرائمری سکولوں کو مڈل کا درجہ دینے کیلئے 4 ارب روپے سے زائد اور 200 مڈل سکولوں کو ہائی سکول کا درجہ دینے کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے جار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ سکولوں کی پرانی عمارتوں کی دوبارہ تعمیر کے لئے 60 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جارہی ہے‘ صوبے کے 1500 سکولوں میں missing facilities کی فراہمی کیلئے 4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘ اسی طرح صوبے میں نئے کالجز کے قیام اور موجودہ کالجز میں بنیادی ضروری سہولیات کی فراہمی کیلئے 6 ارب 35 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اگلے مالی سال کے دوران منتخب ڈگری کالجز میں چار سالہ بی اے پروگرام شروع کیا جا رہا ہے ہر ضلع ہیڈ کوارٹر پر پوسٹ گریجویٹ بلاکس کی تعمیر کیلئے 18 کروڑ روپے رکھے جا رہے ہیں۔ ان بلاکس کی تعمیر کے بعد ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر پوسٹ گریجوایٹ کلاسوں کا آغاز ہو جائے گا۔ اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے حکومت پنجاب نے صوبہ کی 7 یونیورسٹیوں کی 15 نامکمل سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے اگلے مالی سال کے بجٹ میں 38 کروڑ 37 لاکھ روپے مختص کئے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سماجی شعبہ جات میں صحت ایک نہایت اہم شعبہ ہے۔ صحت کے شعبہ میں آئندہ مالی سال 2010-11 میں ترقیاتی کاموں کے لئے 21 ارب روپے صرف کرنے کی تجویز ہے۔ اگلے مالی سال میں صوبہ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان‘ ساہیوال‘ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں 4 نئے میڈیکل کالج قائم کئے جا رہے ہیں۔ یہ میڈیکل کالج صوبے میں پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی کے ادارے کے تحت قائم کئے جانے والے دو کالجوں کے علاوہ ہونگے۔ یہ ہماری حکومت کی صحت کے شعبہ کے ساتھ وابستگی اور لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔ صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔ آئندہ مالی سال میں راولپنڈی میں دل کے امراض اور جدید کڈنی ہسپتال کی تعمیر بھی شامل ہے۔ پرائمری اور سیکنڈری سطح کے ہیلتھ کیئر سنٹرز کو 6ارب 50 کروڑ روپے کی رقم سے مزید مستحکم کیا جارہا ہے۔ یہ رقم صحت کے شعبہ میں ضلعوں کے اپنے بجٹ میں مختص شد رقوم کے علاوہ ہے۔ تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ حکومت کھیلوں کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اگلے مالی سال میں اس شعبہ کے لئے 1 ارب 60 کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں‘ صاف ستھرا پانی نہ صرف انسانی صحت اور نشو نما کے لئے ضروری ہے بلکہ ماحول کو بھی آلودگی سے پاک رکھتا ہے۔ فراہمی و نکاسی آب اگرچہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری قرار دی جا چکی ہے تاہم حکومت پنجاب اس بنیادی ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے۔ حکومت پنجاب آئندہ مالی سال میں اس مد میں 9 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ اس سے شہری اوردیہی علاقوں میں فراہمی و نکاسی آب کے انتظام کو بہتر بنایا جائیگا۔ اس پروگرام کے تحت 54 فیصد فنڈز دیہی علاقوں میں خرچ کئے جائیں گے۔ اگلے مالی سال میں کڑوے اور کھارے پانی والے علاقوں میں نئی واٹر سپلائی سکیموں کی تعمیر اور پہلے سے موجود سکیموں کی اصلاح و بہتری کیلئے 2 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں‘اگلے مالی سال میں مقامی سطح کی سکیموں پر 3 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے۔ جس میں دیہی علاقوں میں رابطہ سڑکیں‘ تعلیمی اداروں میں missing facilties فراہمی و نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولتوں کے منصوبے شامل ہیں۔ ان سکیموں کی نشاندہی منتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت سے کی جائے گی‘پچھلے سال کی طرح رواں مالی سال میں بھی زراعت کی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ آئندہ مالی سال میں زرعی شعبہ میں 3 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کئے جائیںگے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ زرعی شعبہ سے متعلق تمام جاری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔۔وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ زرعی تحقیق کے بغیر زراعت کے شعبہ میں ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا لہذا اگلے سال زرعی شعبہ میں تحقیق پر 96 کروڑ 83 لاکھ روپے سے خرچ کئے جائیں گے۔ توانائی کے حالیہ بحران نے دوسرے شعبوں کی طرح ہماری زراعت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ توانائی کے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی بنیادی ذمہ داری اگرچہ مرکزی حکومت کی ہے تاہم حکومت پنجاب بھی اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ چنانچہ صوبے کے طول و عرض میں بجلی کی قلت کی وجہ سے رک جانے والے ہزاروں ٹیوب ویلوں کو رواں دوراں رکھنے کیلئے حکومت نے شمسی توانائی کو بروئے کار لانے کا انقلابی فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے حصول کیلئے ایک ارب 16کروڑ روپے کی رقم بطور سبسڈی مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس رقم میں ضرورت کے مطابق اضافہ بھی کیا جا سکے گا۔لائیو سٹک زراعت کے شعبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی زندگی کو قائم ودائم رکھنے میں بھی اس کا اہم کردار ہے اور یہ ملکی معیشت کا ایک اہم جزو بھی ہے۔ لائیو سٹاک کے شعبہ کو ترقی دے کر غربت کو کم کرنے میں براہ راست مدد لی جا سکتی ہے۔ مالی سال 2010-11ءمیں لائیو سٹاک کے شعبہ میں 2ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں جس سے نئی ترقیاتی‘ تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیاں شروع کی جا رہی ہیں۔ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے مویشیوں کی بیماریوں کی روک تھام کیلئے پنجاب کے مختلف اضلاع میں علاج کی سہولیات مہیا کی جائیں گی‘آبپاشی کے نظام کو بہتر بنائے بغیر زرعی خود کفالت کا تصور ممکن نہیں۔ 37ہزار کلومیٹر پر محیط یہ نظام دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے۔ جس سے 21ملین ایکڑ رقبہ سیراب کیا جا رہا ہے۔ ہماری یہ کوشش رہے گی کہ اس ورثہ کی مکمل دیکھ بھال کریں اور اس میں ہر ممکن بہتری اور توسیع کریں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آبپاشی سیکٹر کے لئے 11ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اگلے مالی سال میں انشاءاللہ خانکی اور جناح بیراج پر کام شروع کیا جائے گا جس کیلئے ضروری فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ جناح بیراج کے ساتھ چشمہ لنک کینال کی اصلاح اور بہتری کا کام بھی مکمل کر لیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب کے دیرینہ مطالبے کے مطابق میلسی سائفن پر اضافی بیرل کی تعمیر کا منصوبہ بھی اگلے مالی سال میں شروع کر دیا جائے گا‘ملکی معیشت میں جنگلات‘ جنگلی حیات اور ماہی پروری اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگلے مالی سال میں اس شعبہ میں ایک ارب سے زائد روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے‘صنعتیں ہماری معیشت کی جان اور خوشحال زندگی کی ضمانت ہیں۔ ہماری حکومت کی یہ کوشش ہے کہ صوبے کے ماحول کو bussines friendlyرکھا جائے تاکہ نجی شعبہ میں زیادہ سے زیادہ صنعتیں قائم ہوں۔ جس سے روزگار کے مواقع میسر ہونگے اور پنجاب کے عوام خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔صنعتی وزرعی ترقی ہنر مند افرادی قوت سے مشروط ہے۔ ہمارے ملک میں ایک طرف تو ہنر مند افراد کی شدید کمی ہے اور دوسری جانب لاکھو ں افراد بیروزگار ہیں۔ صنعتی شعبہ کو بھی ہنر مند افراد کی کمی کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔ لہٰذا حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنے والے ادارے ٹیوٹا کو مالی اور انتظامی خود مختاری دے دی ہے۔ تاکہ تیز رفتاری سے نوجوانوں کو جدید فنی علوم یعنی مارکیٹ drivenکورسز میں تربیت دی جائے اور وہ صنعتی وزرعی شعبہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے بہتر اور باعزت روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔ فنی تعلیم کے لئے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں 2ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ اس سیکٹر کے لئے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر 6ارب 80کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں‘فنی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر حکومت نے 50کروڑ کے ابتدائی سرمایہ سے Skills Development Endowment Fundقائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سماجی اور صنعتی ترقی میں بہترین انفراسٹرکچر ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اس شعبہ میں آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر 59ارب 26کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے۔ جس میں سڑکوں کی تعمیر کے لئے 32ارب 88کروڑ روپے‘ پبلک بلڈنگز کے لئے 6ارب 21کروڑ روپے، Urban Developmentکے لئے 9ارب روپے اور آبپاشی کے منصوبوں پر 11ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اور ہمارا خطہ پنجاب تہذیب وثقافت کا مرکز ہے۔ اپنے تہذیبی ورثہ کو دنیا میں روشناس کرانے کیلئے سیاحت کا کردار نمایاں ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی سیاحت کے فروغ کیلئے حکومت پنجاب ایک ارب 67کروڑ روپے سے زائد خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ آئندہ برس مری میں سیاحوں کیلئے جدید طرز پر چیئرلفٹ سسٹم قائم کیا جا رہا ہے۔جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اضلاع کی پسماندگی سے کون آگاہ نہیں۔ مقام افسوس ہے کہ گزشتہ حکومت میں ان علاقوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے کے لئے عملی اقدامات کی بجائے اسے محض ایک سیاہی نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ہماری حکومت نے جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے تعلیم‘ صحت‘ سماجی ترقی‘ مواصلات‘ لائیو سٹاک اور دوسرے شعبوں میں حقیقی اور ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ اس برس کے دوران آپ کی حکومت نے جنوبی پنجاب میں مختلف ترقیاتی شعبوں میں 135ارب روپے مالیت کے منصوبوں کا آغاز کیا۔ رواں مالی سال میں ان منصوبوں کے لئے 42ارب روپے کی رقم مختص کی گئی۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ آئندہ مالی سال کے دوران 135ارب روپے کی مالیت کے ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے تقریباً 52ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی آبادی صوبے کی کل آبادی کا 31فیصد ہے جبکہ اس علاقے کے لئے مختص کی جانے والی رقوم کی شرح ترقیاتی بجٹ کا 36فیصد بنتی ہے۔جنوبی پنجاب کے اضلاع میں جاری اور آئندہ ترقیاتی منصوبے اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے اپنے وسائل کا رخ پنجاب کے ان پسماندہ اور ماضی میں نظر انداز کئے گئے علاقوں کی طرف موڑ دیا ہے۔ میں اس ضمن میں زیادہ تفصیلات میں جائے بغیر بہاولپور میں 300بستروں کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی تعمیر‘ بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کی تعمیر وتوسیع‘ ڈیرہ غازیخان میں میڈیکل کالج‘ بہاولنگر میں رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور بہاولپور میں لائیو سٹاک یونیورسٹی کا ذکر کرنے کے ساتھ یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت نے صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں اپنے منصوبوں کے لئے جنوبی پنجاب کے اضلاع کا ترجیحی بنیادوں پر انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے شروع کئے جانے والے موبائل ہسپتالوں کے انقلابی پروگرام کا آغاز ہی جنوبی پنجاب سے کیا جا رہا ہے اور اگلے مالی سال کے دوران یہاں کے ہر ضلع کے عوام کے لئے جدید ترین طبی سہولیات اور معیاری ادویات سے مزین کم ازکم ایک موبائل ہسپتال مہیا کر دیا جائے گا۔ اسی طرح ضلعی ہسپتال میں 10نئے ایمرجنسی بلاکس تعمیر کرنے کے منصوبے کے آغاز کے لئے بھی بہاولنگر‘ راحن پور‘ ڈیرہ غازی خان‘ لیہ اور مظفر گڑھ کا ترجیحی طور پر انتخاب کیا گیا ہے۔ دانش سکولوں کے منصوبے کے تحت پہلے چھ سکول بھی جنوبی پنجاب کے اضلاع ہی میں تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ چولستان کی ترقی اور یہاں کے عوام کی بہبود کے بغیر جنوبی پنجاب کی ترقی کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔ چنانچہ چولستان کے علاقے میں سڑکوں کی تعمیر‘ پینے کے پانی کی فراہمی‘ لائیو سٹاک کی ترقی کے لئے ایک خطیر رقم مہیا کی جا رہی ہے۔ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ٹرائبل ایریاز کی ترقی کے لئے 3ارب 38کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ترقیاتی منصوبہ (TADP) شروع کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اگلے مالی سال میں 25کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح بارانی علاقوں میں 200چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کے لئے 20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح بھکر‘ میانوالی‘ خوشاب اور جھنگ کے نسبتا پسماندہ اضلاع کی ترقی کے لئے مالی سال 2010-11ءمیں خصوصی طور پر 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘جب ہماری حکومت نے پنجاب میں اقتدار سنبھالا تو ایمرجنسی 1122کی سہولت صوبے کے صرف 12اضلاع میں موجود تھی۔ ہم نے صرف دو سال کے عرصے میں اس سروس کو مزید 23ضلعوں تک وسعت دے کر صوبے کے طول وعرض میں پھیلا دیا ہے۔ اب ہم نے اس سروس کو تحصیل ہیڈ کوارٹرز کی سطح پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اگلے مالی سال میں 2ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔آج کا دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ پوری دنیا کے ممالک اپنے کاروبار اور روز مرہ کے امور کی انجام دہی میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہترین فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے نہ صرف استعداد کار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس سے شفافیت اور احتسابی عمل کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اگلے مالی سال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے ایک ارب 96کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں‘حکومت معدنیات کو ترقی دے کر قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ حکومت کی پالیسی ہے کہ معدنیاتی کانوں کی exploitationخود کرے اور معدنی پیداوار کو بڑھانے کے لئے نجی شعبہ کو آگے لائے تاکہ معدنیات کے شعبہ میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا فروغ ہو۔ معدنیات کے شعبہ کے لئے 2010-11ءمیں 30کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوںنے مزید کہا کہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ اگلے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں خواتین کی فلاح وبہبود کے لئے مختلف شعبہ جات میں تقریباً 15ارب روپے کے منصوبے تجویز کئے جا رہے ہیں۔اقلیتیں ہمارے معاشرے کا نہایت اہم حصہ ہیں اور وہ ہمارے صوبہ کی تعمیر وترقی کے لئے نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اقلیتوں کی ترقی کے لئے آئندہ مالی سال میں 21کروڑ پچاس لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت نے آئندہ برس کے دوران اقلیتی طلباءکو خصوصی وظائف دینے کا پروگرام تیار کیا ہے۔گزشتہ حکومت نے مقامی حکومتوں کے نظام کو مخصوص سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ آپ کی حکومت نے اس نظام کو حقیق معنوں میں عوام کا خدمت گزار بنانے اور اس میں شفافیت پیدا کرنے کے لئے موثر حکمت عملی تیار کی ہے۔ جس کے لئے مقامی حکومتوں کے قانون میں ضروری ترامیم بھی کی جا رہی ہیں۔ آئندہ برس کے دوران مقامی حکومتوں کو ترقیاتی اور جاری اخراجات کے لئے مجموعی طور پر 164 ارب روپے دئیے جائیں گے۔میں اس اہم موقع پر یہ اعلان کرتے ہوئے نہایت خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ جناب وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایت پر حکومت نے موجودہ مالی سال سے دیہی علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی توسیع اور بحالی کے لئے ایک پروگرام ترتیب دیا تھا جس کے لئے پہلے مرحلہ میں 2ارب روپے رکھے گئے۔ اسی پروگرام کے تحت اگلے مالی سال میں دیہی سڑکوں کی تعمیر کے لئے مزید 2ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔بڑے شہروں میں جن میں فیصل آباد‘ راولپنڈی‘ سرگودھا اور گوجرانوالہ شامل ہیں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے 2ارب 20کروڑ روپے رکھے جا رہے ہیں۔ چنیوٹ‘ ڈیرہ غازی خان‘ ساہیوال اور رحیم یار خان کے شہروں کی ترقی کے لئے بھی خصوصی فنڈز رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح پنجاب کے بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولیات کیلئے بسوں پر ایک ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ ان پروگراموں پر عملدرآمد سے صوبہ بھر میں نہ صرف موجود انفراسٹرکچر کی بحالی ہو گی بلکہ دیہی اور شہری علاقوں میں روزگار کے بہتر مواقع میسر ہونگے جو کہ یقینا صوبہ میں معاشی ترقی کا باعث ہو گا اور اس سے غربت میں کمی واقع ہو گی۔سرکاری ملازمین قومی ترقی کے منصوبوں پر عملدرآمد اور عوام تک خدمات پہنچانے والی حکومتی مشینری کا ایک اہم جزو ہیں۔ یہ ملازمین اور پنشنرز اپنی محدود آمدنی کی وجہ سے مہنگائی اور افراط زر سے نسبتا زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو درپیش مالی مسائل کے پیش نظر اپنے محدود وسائل کے باوجود آپ کی حکومت نے صوبائی ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہ اور پنشن میں اضافہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ صوبائی ملازمین کو ان کی تنخواہوں کے 50فیصد کے برابر ایڈہاک ماہانہ الاﺅنس دیا جائے گا۔ وہ سرکاری ملازمین جنہیں ان کی تنخواہ کے برابر یا اس سے زیادہ کوئی اضافی الاﺅنس دیا جا چکا ہے موجودہ اضافے کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔میں ایسے پنشنرز جو 2001سے پہلے ریٹائرڈ ہوئے تھے ان کی پنشن میں 20فیصد اور 2001کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کی پنشن میں 15فیصد اضافہ کا اعلان کرتا ہوں۔ حکومت کم ازکم پنشن کی حد 2000روپے ماہانہ سے بڑھا کر 3000روپے ماہانہ اور پنشنرز کی وفات کی صورت میں اہلخانہ کو ملنے والی پنشن کی شرح میں 50سے 75فیصد اضافے کا اعلان کرتی ہے۔حکومت نے تمام پنشنرز کو ان کی پنشنوں کے علاوہ میڈیکل الاﺅنس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت سکیل 1تا 15کے پنشنرز اپنی پنشن کا 25فیصد اور سکیل 16اور اس سے اوپر والے پنشنرز اپنی ماہانہ پنشن کا 20فیصد میڈیکل الاﺅنس حاصل کر سکیں گے۔ اس وقت گریڈ 16سے گریڈ 22کے سرکاری ملازمین کو ماہانہ میڈیکل الاﺅنس نہیں دیا جا رہا۔ آپ کی حکومت نے آئندہ برس سے ان ملازمین کو میڈیکل الاﺅنس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ملازمین ان کی ماہانہ تنخواہ کا 15فیصد میڈیکل الاﺅنس دیا جائے گا۔ اسی طرح سکیل 1تا 15کے ملازمین کو ملنے والے موجودہ ماہانہ میڈیکل الاﺅنس کو دگنا کیا جا رہا ہے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہ‘ پنشن اور میڈیکل الاﺅنس میں اس اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2010ءسے ہو گا۔ اس اضافہ کے بعد حکومت اس مد میں اگلے برس تقریباً 54ارب روپے اضافی صرف کرے گی۔نجی شعبہ میں کام کرنے والے محنت کشوں کو درپیش مسائل سے کون آگاہ نہیں۔ حکومت نے ان کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ان کی کم ازکم اجرت کو 6000روپے سے ماہانہ بڑھا کر 7000روپے ماہانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔ساتویں این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی روشنی میں صوبائی محاصل کے موجودہ نظام میں کچھ تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے‘ایسی سروسز جو وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئی ہیں ان پر وفاقی حکومت کی موجودہ ٹیکس شرح کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا‘جائیداد کی خرید وفروخت پر لگنے والےcapital value tax (CVT) جو وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوا ہے اس کی شرح میں 50فیصد کمی کی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت یہ ٹیکس 4فیصد کی بجائے 2فیصد شرح سے وصول کرے گی‘دیہی علاقوں میں جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس کا تعین ریونیو سٹاف کی صوابدید پر ہوتا رہا ہے۔ دیہی عوام کو ریونیو سٹاف کے ممکنہ استحصال سے بچانے کیلئے دیہی علاقوں میں valuation tableکے نظام کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔ ٹیکس نظام میں ترامیم کی تفصیل معزز ایوان میں فنانس بل کے ذریعے پیش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ آپ کی حکومت کا بجٹ ایک عوام دوست‘ متوازن‘ ترقیاتی اور ٹیکس فری بجٹ ہے۔میں اپنی تقریر ختم کرنے سے پہلے محکمہ خزانہ اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے افسران‘ ماتحت عملہ اور اپنے سٹاف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس بجٹ کی تیاری میں شب وروز انتھک محنت کی۔
|