امریکہ آزادی اظہار کا ٹھیکیدار نہ بنے (محمد نورالھدیٰ ) ای میل
منگل, 25 مئی 2010 14:55
فیس بک اور یو ٹیوب پر گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے پاکستان میں تمام متعلقہ ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی گئیں ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ”فیس بک پر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد پُرتشدد ردعمل پر ہمیں سخت تشویش ہے ۔ ویب سائٹس پر پابندی بے جا ہے ایسے واقعات کا حل مذاکرات میں ہے نہ کہ پابندیوں میں، یہ آزادی اظہار کا معاملہ ہے اس پر اتنی شدت پسندی درست نہیں “ ۔
امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کو ان ویب سائٹس پر پابندی کی وجہ سے اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ۔ اگرچہ پاکستان میں یہ اقدام عدالتی حکم سے مجبور ہوکر اٹھایا گیا ہے وگرنہ اس سے پہلے مغربی ممالک میں ایسے واقعات پیش آتے رہے لیکن پاکستان کی طرف سے صدائے احتجاج تک بلند نہیں کی گئی ۔ اب چونکہ یہ ناپاک مہم پاکستان میں پہنچ گئی تو حکومت پاکستان کو عدلیہ کے حکم پر ایکشن لینا پڑا ۔ بہرحال حکومت کا یہ اقدام حوصلہ افزائی کے قابل ہے کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مغربی آقاﺅں کی خوشنودی کے خلاف پاکستان کے پلیٹ فارم سے گستاخی رسول کی سازش کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہو ۔ اسی لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ تشویش لاحق ہوئی ہے کہ جن کی لگامیں ان کے ہاتھ میں ہیں وہ کیونکر بپھر رہے ہیں ۔ آزادی اظہار کا دعویٰ بجا مگر اس کی آڑ میں حرمت رسول اور اسلامی اقدار پر حملہ ناقابل معافی ہے ۔ امریکہ اگر آزادی اظہار کی بات کرتا ہے تو گستاخِ رسول کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والوں کا جراتمندانہ اقدام آزادی اظہار میں کیوں نہیں گردانتا ؟ انہیں کیوں سزا دی جاتی ہے ؟ .... فیصل شہزاد کو گرفتار کرنے والے یہ کیوں بھول گئے کہ اس نے بھی آزادی اظہار کے ضمن میں سب کچھ کیا .... بے گناہ عافیہ صدیقی پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے آزادی اظہار کے نظریے کو کیوں فراموش کیے ہوئے ہیں ؟ .... افغانستان بھی آزادی اظہار کے نام پر تباہ ہوا .... طالبان اگر اپنا موقف پیش کرتے ہیں تو آزادی اظہار کے تناظر میں ہی کرتے ہیں .... پرویز مشرف کے دور سے جو بے گناہ پاکستانی ”لاپتہ“ ہیں وہ بھی آزادی اظہار کی آڑ میں ہی لاپتہ ہیں .... امریکہ اگر آزادی اظہار کا ٹھیکیدار بنتا ہے تو سب کو برابر مواقعے دینے سے کیوں گھبراتا ہے ؟ یہ تنگ نظری اور متعصبانہ رویہ صرف مسلمانوں ہی سے کیوں ؟
 آزادی اظہار کے تناظر میں ایک قوم کی دوسری قوم کی مقدس ہستیوں اور مذہب پر کیچڑ اچھالنے کی ناپاک جسارت قابل گرفت عمل ہے ۔ دنیا کے کسی قانون میں یہ بات درج نہیں ہے کہ آزادی اظہار کی آڑ میں کسی دوسرے دین یا اس کی مقدس ہستی پر نقب لگانی جائز ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ غیر مسلم اقوام کی طرف سے مسلسل آخری نبی حضرت محمد کی ذات اور دین اسلام کے خلاف سرد جنگ جاری ہے اور اگر مسلمان اس کے خلاف احتجاج کریں تو اسے آزادی اظہار کا نام دے کر دبا دیا جاتا ہے ۔ دوسری جانب مسلمان ملکوں کے ”بڑے“ تو مکمل خاموشی طاری کئے ہوئے ہیں ۔ یہ عمل گذشتہ 5 سال سے مسلسل جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقدام سے مغربی دنیا کو تشویش لاحق ہوئی ہے ۔ تاہم اسلامی دنیا کے لئے بھی یہ اطمینان بخش امر ہے کہ پاکستان نے اس نازک معاملے کی نوعیت کو سمجھا اور پہلی مرتبہ عالم اسلام کی نمائندگی کا حق ادا کیا ۔ حقوق کے ٹھیکیدار امریکہ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہئے کہ ہمارے ہاں کونسا اقدام آزادی اظہار کے خلاف ہے اور کونسا حق میں ۔ سب جان لیں کہ دینِ اسلام یا نبی کی حرمت پر آنچ آئے تو یہ مسلمانوں کو گوارا نہیں ۔ اس کے ذمہ داروں کے خلاف وہ حد سے گزر جایا کرتے ہیں اور ویب سائٹس پر پابندی تو اس کی معمولی سی جھلک ہے وگرنہ غازی علم الدین شہید اور عامر چیمہ شہید جیسے کردار بھی ہماری سنہری تاریخ کا حصہ ہیں جو اپنی غیرت ایمانی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے اور حقوق کے ٹھیکیداروں کو آئینہ دکھا گئے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اپنا قبلہ درست کرے اور منافقت اور دو عملی کی پالیسی ترک کرے ۔ اگر وہ آزادی اظہار کی بات کرتا ہے تو سب کے ساتھ منصفانہ سلوک کرتے ہوئے کھلے دل کا مظاہرہ کرے اور عافیہ صدیقی ، فیصل شہزاد ، اور تمام ”لاپتہ“ پاکستانیوں کو فی الفور رہا کرے وگرنہ دنیا دیکھ ہی رہی ہے کہ آزادی اظہار کی پالیسی پر کون کس حد تک عمل پیرا ہے ؟؟؟
 
 
بینر
بینر

لاہور موسم

Smoke
27C
ہفتہ