|
گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ناقابل معافی جرم ہے (قاری محمد یعقوب شیخ) |
|
|
بدھ, 19 مئی 2010 12:40 |
|
شمالی امریکا سے تعلق رکھنے والی کارٹونسٹ مولی نورس نامی ملعون عورت کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ 20مئی کو (ایوری باڈی ڈرا محمد ڈے) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنانے کا دن منایا جائیگا (نعوذ باللہ) اس ملعون خاتون کی جانب سے تخلیق کاروں، کارٹونسٹوں اور آرٹسٹوں کو روانہ کیے گئے دعوت نامے میں لکھا گیا ہے کہ وہ اس مقابلہ میں بھرپور حصہ لیں، اس دعوت نامے میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی کھلم کھلا گستاخی اور بے ادبی کی گئی ہے۔ اس پوری مہم کہ جس کی سربراہ مولی نورس ہے، کے پیچھے ہاتھ امریکا کا ہے۔ امریکا کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے جا رہے ہیں، کبھی یہ عراق و افغانستان اور کبھی پاکستان و ایران کی طرف بڑھنے لگے ہیں، ان کی لمبائی کا صحیح اندازہ تو وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کے تعلقات ان سے گہرے ہیں، ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ دنیا میں جہاں کہیں کوئی فتنہ و فساد، تخریب کاری، عیاری، خون خرابہ اور جنگ و جدال، انسانیت کا قتل عام اور فصل و نسل کی تباہی ہو رہی ہے، اس کے آگے اور پیچھے ہاتھ امریکا ہی کا ہے۔ ان کا معاشرہ احترام آدمیت سے ناآشنا اور ادب و آداب سے ناواقف ہے، بے ادبی، ناانصافی اور توہین و گستاخی ان کے رگ و ریشہ میں رچی بسی ہے، جس کا بین اور واضح ثبوت یہ ہے کہ چند روز قبل ایک امریکی براڈکاسٹنگ اسٹیشن سے ”ساﺅتھ پارک“ نامی فلم میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سمیت کئی انبیاءعلیہم السلام کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، خاص طور پر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی اور گستاخی کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک بار پھر صلیبی جنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس توہین آمیز رویے کے خلاف امریکی مسلمانوں نے بڑے پیمانے پراحتجاج کیا، اس فلم کے بنانے والے میٹ اسٹون اور ٹرے پارک کو تنبیہ کی کہ وہ اپنی روش اور رویے سے باز آ جائیں ورنہ نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے، کیونکہ امت مسلمہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و حرمت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتی ہے، ان کے خلاف کچھ لکھا، بولا یا بنایا جائے تو وہ ناقابل برداشت ہے۔ ادھر مولی نورس نے کہا ہے کہ ہر شخص کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے، لہٰذا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنانے کی اجازت ہونی چاہئے اور کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ اس گستاخانہ مہم کو اجتماعی شکل دینے کے لئے مولی نورس نے فیس بک نامی سوشل نیٹ ورک ویب سائٹ کا استعمال کیا ہے اور اس کے بقول امریکا میں اس کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہو رہی ہے، ہزاروں کی تعداد میں کارٹونسٹ اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تعجب اس بات پر ہے کہ فیس بک انتظامیہ کو اب تک ہزاروں مسلمانوں کا احتجاج موصول ہو چکا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی اور نہ حکومت نے اس سائٹ پر کوئی پابندی لگائی ہے اور نہ اس مہم کی سربراہ کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی ہی کی گئی ہے۔ بلکہ اس کی حمایت و حفاظت کی جا رہی ہے اور خوشی منائی جا رہی ہے کہ امریکا کی عزت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ یہ سب کچھ دیکھ کراور پڑھ‘ سن کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ 2004ءمیں ڈینش ادارے نے جو فلم بنائی تھی، جس میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی گئی اور اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا گیا، 2005ءمیں پھر ایسی حرکت کا ارتکاب کیا گیا۔2010ءمیں ناروے اور سویڈن نے یہ خباثت کی ہے۔ کارٹون بنانے والے ان تمام بے ادبوں اور گستاخیوں کا سرپرست و سربراہ امریکا ہے، ان کاموں کی کڑیاں اور جڑیں امریکا سے ملتی ہیں۔ امریکا اپنی کھوکھلی جڑوں، کمزور معیشت، شکست خوردہ فوج، غیر مہذب معاشرہ کے باوجود ایسی کمینی حرکات کر رہا ہے جو اس کے جلد خاتمے اور تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔ امریکا کو ہلاکت اور یورپ کو بربادی سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی، رہی بات مسلم امہ کے جذبات و احساسات کی تو اس وقت پوری امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں وہ خواہ امریکا میں رہنے والے ہیں یا یورپ میں رہائش پذیر سب نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے اور فیس بک ویب سائٹ کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اس قسم کی خباثت سے باز آئے اور اپنی سروسز اور سہولیات ایسے لوگوں کو مت دے، کیونکہ گستاخی کے اس بڑھتے ہوئے عمل سے مسلم نوجوانوں میں شدید ردعمل اور جذبہ انتقام پیدا ہو رہا ہے۔ 12مئی 2010ءکو گستاخانہ خاکے بنانے والے ملعون ڈینش کارٹونسٹ پر لیکچر کے دوران میں گھونسوں کی بارش شروع ہو گئی۔ ملعون لارس ویلکاس سٹاک ہوم یونیورسٹی ایسالا میں لیکچر دینے گیا تو ہال میں داخل ہوتے ہی 5افراد نے احتجاج شروع کر دیا، بعد ازاں مذہب پر گفتگو کرنے پر ہال میں موجود 20افراد نے اس پر حملہ کیا، ایک نوجوان نے گھونسوں سے حملہ کیا، اس کی عینک ٹوٹ گئی اور ناک پھوٹ گئی۔ پولیس کی مداخلت اور آنسو گیس کے استعمال سے لوگوں کو منتشر کر کے دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ خوف کے مارے لارس کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وہ خود کو غیرمحفوظ سمجھتا ہے، اس لیے اس کا منظر عام سے غائب ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے زمین تنگ ہو چکی ہے، یہ دن کہیں اور رات کہیں اور گزارتا ہے کیونکہ ڈینش فلم ساز کا انجام اس کی آنکھوں کے سامنے ہے، جس کو ایک مسلمان نوجوان نے چھری سے وار کر کے موت کی نیند سلا دیا تھا۔ اب بھی اگر امریکا نے گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مہم کو نہ روکا تو پھر مسلمان نوجوانوں کو دنیا کی کوئی طاقت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر مر مٹنے اور ان گستاخوں کو مٹانے سے نہیں روک سکتی۔ 18مئی کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس میں جناب عبدالخالق پیرزادہ، جناب اسحاق ڈار، پروفیسر خورشید احمد، حافظ رشید احمد، مولانا گل نصیب نے اپنے خطابات میں پوری قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ توہین رسالت کسی صورت قبول نہیں اور ناموس رسالت پر ہماری جان بھی قربان ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ متعلقہ حکومتوں کو خطوط لکھے کہ اس جرم میں ملوث مجرموں کو سزا دی جائے۔ اس سے قبل قومی اسمبلی، پنجاب اور سرحد اسمبلیوں میں تحریک حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوششوں اور اپیل سے قراردادِ مذمت منظور کی جا چکی ہے۔ لارڈ آف کنٹربری اور پوپ کو خطوط بھی لکھے گئے، ملک کے طول و عرض میں احتجاجی پروگرامات بھی ہوئے اور ہو رہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان اس کا شدید نوٹس لے، عالمی سطح پر احتجاج نوٹ کروائے۔ امریکا جو اس کا نام نہاد اتحادی ہے اس پر پریشر ڈالے کیونکہ یہ ہمارے دین و ایمان کا مسئلہ ہے، عقیدہ و اسلام کا مسئلہ ہے، اس سلسلہ میں اپوزیشن و حکومت تمام دینی و سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو مل کر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا کردار قابل تحسین ہے، اس کے باوجود اور زیادہ حصہ ڈالنے اور بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا ہی قوم میں بیداری کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ اس سے مسلم امہ اور ان کے حکمران بیدار ہوں گے، آج وقت ہے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا، حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کٹ مرنے کا۔
|